گلگت: گلگت بلتستان حکومت نے مقامی تاجروں کو چین سے درآمد ہونے والے سامان پر منظور شدہ ٹیکس استثنا تک شفاف رسائی دینے کے لیے گلگت بلتستان ٹریڈرز رجسٹریشن اینڈ ٹیکس ایگزمپشن سسٹم (جی بی ٹیرز) کا باضابطہ آغاز کر دیا ہے۔ ایکسپریس ٹریبیون کے مطابق وزیراعلیٰ امجد حسین آذر نے نظام کا افتتاح کرتے ہوئے کہا کہ وفاقی حکومت سے حاصل کی گئی رعایتوں کا مقصد خطے کے تاجروں اور عام صارفین کو فائدہ پہنچانا ہے۔

یہ انتظام ستمبر 2025 میں سوسٹ ڈرائی پورٹ پر تاجروں کے 68 روزہ احتجاج کے بعد طے پانے والے معاہدے سے جڑا ہے۔ اس احتجاج کے دوران شاہراہ قراقرم پر آمدورفت متاثر ہوئی تھی اور خنجراب پاس کے راستے پاکستان اور چین کے درمیان تجارت میں رکاوٹ پیدا ہوئی تھی۔ بعد میں طے شدہ انتظام کے تحت سوسٹ کے ذریعے درآمد ہونے والا وہ سامان جو گلگت بلتستان میں مقامی استعمال کے لیے ہو، اہلیت کی شرائط پوری کرنے کی صورت میں سیلز ٹیکس، انکم ٹیکس اور وفاقی ایکسائز ڈیوٹی سے مستثنیٰ ہو سکتا ہے۔

رپورٹ کے مطابق ٹیکس استثنا کی سالانہ حد چار ارب روپے مقرر ہے۔ وزیراعلیٰ نے کہا کہ آن لائن نظام کا مقصد درخواستوں کی رجسٹریشن آسان بنانا، مستحق تاجروں کو مساوی موقع دینا اور رعایتوں کی تقسیم میں امتیازی سلوک کے امکانات کم کرنا ہے۔ اسکیم سے فائدہ اٹھانے کے لیے درخواست گزار کا رجسٹرڈ فرم یا شراکت داری کے تحت کاروبار کرنا ضروری ہوگا۔

حکومت کا کہنا ہے کہ ڈیجیٹل نظام سے درخواست، اہلیت اور منظور شدہ رعایتوں کا ریکارڈ زیادہ منظم انداز میں رکھا جا سکے گا۔ چونکہ ٹیکس چھوٹ مخصوص مقامی کھپت اور مقررہ مالی حد سے مشروط ہے، اس لیے نظام کی مؤثر نگرانی اہم ہوگی تاکہ رعایتی سامان کی مقدار اور مستفید ہونے والے کاروباروں کا درست حساب برقرار رہے۔

وزیراعلیٰ آذر نے صوبائی سیکریٹری معدنیات و صنعت کو گلگت میں ٹریڈ فری زون قائم کرنے کے لیے فوری تجاویز تیار کرنے کی ہدایت بھی کی۔ ان کے مطابق مجوزہ زون مقامی اور بین الاقوامی تاجروں کے لیے سہولت پیدا کرے گا اور صوبائی حکومت اسے اپنے وسائل سے قائم کرنے کا ارادہ رکھتی ہے۔ فی الحال یہ فری زون تجویز کے مرحلے میں ہے، جبکہ جی بی ٹیرز کا آن لائن نظام ٹیکس استثنا کے موجودہ انتظام کو عملی شکل دینے کے لیے شروع کر دیا گیا ہے۔