پاکستان کی بیرونی تجارت میں رواں مالی سال کے پہلے چار ماہ کے دوران درآمدات کی رفتار برآمدات سے نمایاں طور پر زیادہ رہی، جس کے نتیجے میں جولائی سے اکتوبر تک تجارتی خسارہ 14.63 ارب ڈالر تک پہنچ گیا۔ ڈان کی رپورٹ کے مطابق پاکستان بیورو آف اسٹیٹسٹکس کے تازہ اعداد و شمار میں درآمدات میں 12.59 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا، جبکہ برآمدات کی نمو نسبتاً سست رہی۔
تجارتی خسارہ اس فرق کو ظاہر کرتا ہے جو ملک کی اشیا کی برآمدات سے حاصل ہونے والی آمدن اور بیرون ملک سے اشیا کی خریداری پر ہونے والے اخراجات کے درمیان پیدا ہوتا ہے۔ درآمدات میں تیز اضافے کے ساتھ اگر برآمدی آمدن اسی رفتار سے نہ بڑھے تو زرمبادلہ کی طلب بڑھ سکتی ہے اور کرنٹ اکاؤنٹ، روپے کی قدر اور زرِ مبادلہ کے ذخائر پر اضافی دباؤ پیدا ہونے کا امکان رہتا ہے۔
رپورٹ کے مطابق جولائی تا اکتوبر کے عرصے میں برآمدی کارکردگی میں اضافہ ہوا، مگر یہ درآمدی بل کے پھیلاؤ کا مقابلہ کرنے کے لیے کافی نہیں تھا۔ درآمدات میں اضافے کی وجوہات میں توانائی، خام مال، مشینری، صنعتی ضروریات اور صارف اشیا کے مختلف اجزا شامل ہو سکتے ہیں، تاہم ہر شعبے کا حتمی حصہ تفصیلی تجارتی اعداد و شمار سے ہی متعین کیا جا سکتا ہے۔ اس لیے مجموعی اضافے کو کسی ایک درآمدی زمرے سے منسوب کرنا درست نہیں ہوگا۔
حکومت کے لیے یہ اعداد و شمار ایسے وقت میں اہم ہیں جب معاشی پالیسی کا ایک بڑا مقصد برآمدات میں پائیدار اضافہ، صنعتی مسابقت بہتر بنانا اور بیرونی مالی ضروریات کو قابو میں رکھنا ہے۔ برآمد کنندگان طویل عرصے سے توانائی کی قیمت، ٹیکس، ریفنڈ، فنانسنگ اور شرح مبادلہ سے متعلق مسائل اٹھاتے رہے ہیں، جبکہ حکومت برآمدی منڈیوں اور مصنوعات میں تنوع کی ضرورت پر زور دیتی رہی ہے۔
چار ماہ کے اعداد و شمار پورے مالی سال کے نتیجے کی حتمی تصویر نہیں دیتے، کیونکہ عالمی اجناس کی قیمتیں، توانائی کی لاگت، ملکی طلب، زرعی پیداوار اور عالمی منڈیوں میں مانگ آنے والے مہینوں میں تجارتی بہاؤ تبدیل کر سکتے ہیں۔ تاہم 14.63 ارب ڈالر کا ابتدائی خسارہ پالیسی سازوں کے لیے واضح اشارہ ہے کہ برآمدی نمو اور درآمدی انتظام دونوں پر توجہ برقرار رکھنا ہوگی تاکہ بیرونی شعبے میں استحکام کے اہداف متاثر نہ ہوں۔
