اسلام آباد: پاکستان کا تجارتی خسارہ رواں مالی سال کے پہلے چار ماہ، جولائی سے اکتوبر، کے دوران گزشتہ سال کے اسی عرصے کے مقابلے میں 16 فیصد بڑھ کر 14 ارب 63 کروڑ ڈالر ہو گیا ہے۔ پاکستان بیورو شماریات کے جاری کردہ اعدادوشمار کے مطابق اس عرصے میں درآمدات تقریباً 26 ارب ڈالر تک پہنچیں جبکہ برآمدات کی مالیت تقریباً 11 ارب 40 کروڑ ڈالر رہی۔

اعدادوشمار ظاہر کرتے ہیں کہ درآمدی بل میں تیز اضافہ اور برآمدات کی نسبتاً سست رفتار نے بیرونی تجارت کے فرق کو مزید وسیع کیا۔ چار ماہ میں درآمدات کی اوسط ماہانہ مالیت تقریباً ساڑھے چھ ارب ڈالر رہی، جبکہ برآمدات کی اوسط تقریباً دو ارب 80 کروڑ ڈالر ماہانہ رہی۔ گزشتہ مالی سال کے اسی عرصے کے مقابلے میں تجارتی خسارے میں لگ بھگ دو ارب ڈالر کا اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔

تجارتی خسارہ پاکستان کے بیرونی کھاتوں کے لیے اہم اشاریہ ہے کیونکہ درآمدات اور برآمدات کے درمیان بڑا فرق زرمبادلہ کی ضرورت میں اضافہ کرتا ہے۔ اگر ترسیلات زر، خدمات کی برآمدات یا دیگر بیرونی آمدن اس فرق کو پورا نہ کر سکیں تو ملک کو قرض، سرمایہ کاری یا موجودہ ذخائر پر زیادہ انحصار کرنا پڑ سکتا ہے۔ اسی تناظر میں حکومت کے لیے برآمدات میں پائیدار اضافہ اور غیر ضروری درآمدی دباؤ کو محدود کرنا اہم پالیسی چیلنج رہتا ہے۔

رپورٹ کے مطابق مالیاتی حکام نے حالیہ عرصے میں بیرونی قرضوں کی ادائیگی اور رول اوور کے انتظامات بھی جاری رکھے ہیں۔ سعودی عرب سے تین ارب ڈالر کے قرض کے رول اوور کا ذکر بھی سامنے آیا ہے، جبکہ سرکاری حکام پارلیمانی فورمز پر رواں مالی سال کی بیرونی ادائیگیوں اور دوطرفہ و تجارتی قرضوں کے ممکنہ رول اوور سے متعلق اعدادوشمار پیش کر چکے ہیں۔ یہ معاملات تجارتی خسارے سے الگ ہیں، تاہم دونوں پاکستان کی مجموعی بیرونی مالیاتی ضرورت پر اثر انداز ہوتے ہیں۔

برآمدات میں کم رفتار کی وجوہات میں عالمی طلب، پیداواری لاگت، توانائی کے نرخ، شرح مبادلہ اور مقامی صنعت کی مسابقت جیسے عوامل اہم رہتے ہیں۔ دوسری جانب درآمدات میں توانائی، خام مال، مشینری اور دیگر ضروری اشیا کا بڑا حصہ شامل ہوتا ہے، اس لیے محض درآمدات کم کرنا ہر صورت میں معاشی سرگرمی کے لیے فائدہ مند نہیں ہوتا۔ پالیسی سازوں کے لیے بنیادی مسئلہ برآمدی صلاحیت بڑھاتے ہوئے ایسے درآمدی ڈھانچے کو برقرار رکھنا ہے جو پیداوار اور سرمایہ کاری کو سہارا دے۔

چار ماہ کے تازہ اعدادوشمار اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ بیرونی تجارت کا عدم توازن اب بھی ایک نمایاں معاشی خطرہ ہے۔ آئندہ مہینوں میں برآمدی آمدن، عالمی اجناس کی قیمتیں اور درآمدی طلب یہ طے کریں گی کہ مالی سال کے اختتام تک خسارہ کس سطح پر پہنچتا ہے۔