اسلام آباد: پاکستان میں سمندر سے تیل اور گیس کی تلاش کی سرگرمیاں تقریباً دو دہائیوں کے وقفے کے بعد دوبارہ شروع ہونے جا رہی ہیں اور ترکی کا ایک سیسمک جہاز 17 سے 20 نومبر کے درمیان کراچی پہنچنے کی توقع ہے۔ پیٹرولیم ڈویژن نے یہ پیش رفت وفاقی وزیر پیٹرولیم علی پرویز ملک، ترک وفد اور متعلقہ اداروں کے اجلاس کے بعد بتائی، جس میں جہاز کی آمد اور آپریشنل تیاریوں کا جائزہ لیا گیا۔

یہ جہاز ترک پیٹرولیم آف شور کمپنی کے زیر انتظام ہے اور پاکستان کے سمندری علاقوں میں زیرِ سطح ارضیاتی ساخت کا سیسمک سروے کرے گا۔ ایسے سروے سمندر کی تہہ کے نیچے ممکنہ ہائیڈروکاربن ذخائر کی نشاندہی کے لیے بنیادی معلومات فراہم کرتے ہیں، تاہم سیسمک ڈیٹا ملنے کا مطلب بذاتِ خود تیل یا گیس کی تجارتی دریافت نہیں ہوتا۔ کسی ممکنہ ذخیرے کی تصدیق کے لیے بعد کے مراحل میں تفصیلی تجزیہ اور عموماً آزمائشی کھدائی درکار ہوتی ہے۔

پیٹرولیم ڈویژن نے جہاز کی متوقع آمد کو پاکستان اور ترکی کے توانائی تعاون میں اہم پیش رفت قرار دیا ہے۔ سرکاری بیان کے مطابق یہ سرگرمی مکہ معاہدے کے بعد دونوں ممالک کے درمیان توانائی شعبے میں بڑھتے تعاون سے بھی منسلک ہے۔

پاکستان میں آف شور بلاکس کی نیلامی طویل عرصے سے محدود رہی ہے۔ حکومت نے جنوری 2025 میں تقریباً 18 سال کے وقفے کے بعد آف شور بڈ راؤنڈ شروع کیا تھا، جس میں سندھ اور بلوچستان کے ساحلی دائرہ اختیار کے قریب انڈس اور مکران بیسن کے 40 بلاکس کے لیے پیٹرولیم ایکسپلوریشن لائسنس کی پیشکش کی گئی۔

ترک پیٹرولیم آف شور کمپنی نے پاکستان کے تین بلاکس میں سرکاری پاکستانی کمپنیوں کے ساتھ شراکت داری کے معاہدوں کے ذریعے شرکت کی ہے۔ ان شراکت داروں میں آئل اینڈ گیس ڈیولپمنٹ کمپنی، ماری انرجیز اور پاکستان پیٹرولیم لمیٹڈ شامل ہیں۔ اس ماڈل کے تحت مقامی اداروں کے موجودہ تجربے اور ترک کمپنی کی آف شور تکنیکی صلاحیت کو یکجا کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔

پاکستان اپنی توانائی ضروریات کا قابل ذکر حصہ درآمدی ایندھن سے پورا کرتا ہے، اس لیے مقامی تیل اور گیس کی کامیاب دریافت درآمدی بل اور توانائی تحفظ کے لیے اہم ہو سکتی ہے۔ تاہم آف شور ایکسپلوریشن مہنگا اور تکنیکی طور پر پیچیدہ عمل ہے اور ماضی کی پاکستانی سمندری کھدائیوں سے تجارتی کامیابی حاصل نہیں ہوئی۔ موجودہ مرحلہ اس لیے تلاش اور ڈیٹا جمع کرنے کا ہے؛ کسی ذخیرے، پیداوار یا مالی فائدے کا نتیجہ آنے والے سروے اور ممکنہ ڈرلنگ کے بعد ہی متعین ہو سکے گا۔