اسلام آباد: سیکیورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن آف پاکستان (ایس ای سی پی) نے اکتوبر 2026 کے دوران پانچ ہزار سے زائد نئی کمپنیوں کی رجسٹریشن کی، جسے سرکاری رپورٹ میں ایک ریکارڈ ماہانہ تعداد قرار دیا گیا ہے۔ ریڈیو پاکستان کے مطابق نئی رجسٹریشن میں انفارمیشن ٹیکنالوجی کا شعبہ سب سے آگے رہا۔
ایس ای سی پی کے اعداد و شمار کے مطابق اکتوبر میں آئی ٹی شعبے سے وابستہ 991 کمپنیاں رجسٹر ہوئیں۔ اس کے بعد ٹریڈنگ کے شعبے میں 767 اور خدمات کے شعبے میں 594 نئی کمپنیوں کی رجسٹریشن ہوئی۔ یہ اعداد و شمار کاروباری اداروں کی رسمی رجسٹریشن کے رجحان کی نشاندہی کرتے ہیں، تاہم صرف کمپنی رجسٹر ہونے کو عملی سرمایہ کاری، روزگار یا کاروباری کامیابی کے برابر نہیں سمجھا جا سکتا۔
رپورٹ کے مطابق پاکستان میں ایس ای سی پی کے ساتھ رجسٹرڈ کمپنیوں کی مجموعی تعداد 321,794 تک پہنچ گئی ہے۔ کمپنی رجسٹریشن کے عمل میں ڈیجیٹل ذرائع کا حصہ انتہائی زیادہ ہے اور 99.9 فیصد رجسٹریشن آن لائن مکمل کی گئی۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ کمپنی قائم کرنے کے ابتدائی قانونی عمل میں ڈیجیٹل پلیٹ فارم بنیادی ذریعہ بن چکا ہے۔
حکومت کاروباری سرگرمیوں اور سرمایہ کاری کے فروغ کے لیے قواعد و ضوابط کو آسان بنانے، ڈیجیٹل خدمات بڑھانے اور ادارہ جاتی عمل میں وقت کم کرنے کو اپنی معاشی پالیسی کا حصہ قرار دیتی رہی ہے۔ ایس ای سی پی کی آن لائن رجسٹریشن اسی وسیع تر digitisation کا ایک حصہ ہے، جس کا مقصد کاروباری افراد کو جسمانی دفاتر کے چکر اور کاغذی کارروائی کم کرنے کی سہولت دینا ہے۔
آئی ٹی شعبے میں سب سے زیادہ نئی رجسٹریشن پاکستان کی ڈیجیٹل خدمات اور ٹیکنالوجی کاروبار میں بڑھتی دلچسپی کی علامت ہو سکتی ہے، مگر ان کمپنیوں کے حجم، سرمایہ، فعال کاروباری سرگرمی یا برآمدی کارکردگی کی تفصیل موجودہ رپورٹ میں نہیں دی گئی۔ اسی طرح ٹریڈنگ اور خدمات کے شعبوں میں رجسٹریشن کی تعداد ان شعبوں میں رسمی کاروباری ڈھانچے کے پھیلاؤ کی تصویر پیش کرتی ہے۔
کمپنی رجسٹریشن کے تازہ اعداد و شمار کاروباری ماحول کا ایک اہم اشاریہ ہیں، لیکن معیشت پر ان کا مکمل اثر مستقبل میں ان اداروں کی بقا، سرمایہ کاری، ٹیکس ادائیگی، روزگار اور پیداوار سے واضح ہوگا۔ فی الحال ایس ای سی پی کی رپورٹ کا نمایاں نتیجہ یہ ہے کہ اکتوبر میں نئی کمپنیوں کی ماہانہ رجسٹریشن پانچ ہزار سے تجاوز کر گئی اور تقریباً تمام درخواستیں آن لائن نظام کے ذریعے مکمل ہوئیں۔
