اسلام آباد: پاکستان ریلوے نے مسافر خدمات اور انتظامی نظام کی ڈیجیٹلائزیشن کا عمل تیز کرتے ہوئے رواں مالی سال کے لیے 160 ارب روپے آمدن کا ہدف مقرر کیا ہے۔ ریڈیو پاکستان کے مطابق وفاقی وزیر ریلوے محمد حنیف عباسی نے کہا ہے کہ ادارے میں جدید ٹیکنالوجی کے استعمال سے مسافروں کو سہولت دینے اور مالی کارکردگی بہتر بنانے پر توجہ دی جا رہی ہے۔
وزیر ریلوے کے مطابق ٹکٹنگ کے نظام سمیت مختلف خدمات کو ڈیجیٹل پلیٹ فارمز پر منتقل کیا گیا ہے تاکہ مسافر روایتی کاؤنٹرز پر انحصار کم کرتے ہوئے زیادہ آسانی سے سفری سہولت حاصل کر سکیں۔ ریلوے انتظامیہ ڈیجیٹل نظام کو صرف ٹکٹوں کی فروخت تک محدود رکھنے کے بجائے ادارے کی مجموعی کارکردگی اور آمدن کی نگرانی میں بھی استعمال کرنا چاہتی ہے۔
حنیف عباسی نے بتایا کہ پاکستان ریلوے نے اپنی آمدن بڑھانے کے لیے رواں مالی سال میں 160 ارب روپے کا ہدف رکھا ہے۔ یہ ہدف ادارے کی مسافر اور مال برداری کی خدمات، بہتر انتظام اور دستیاب اثاثوں کے زیادہ مؤثر استعمال سے منسلک ہے۔ تاہم ہدف کا حصول سال کے اختتام پر حقیقی وصولیوں اور آپریشنل کارکردگی سے واضح ہوگا، اس لیے اسے حتمی آمدن کے بجائے سرکاری مالی ہدف کے طور پر دیکھا جائے گا۔
پاکستان ریلوے طویل عرصے سے مالی دباؤ، پرانے انفراسٹرکچر اور آپریشنل اخراجات جیسے مسائل کا سامنا کرتا رہا ہے۔ حالیہ برسوں میں حکومت نے مسافر ٹرینوں، اسٹیشنوں، ٹکٹنگ اور مال برداری کے نظام میں اصلاحات اور نجی شعبے کی شمولیت کے مختلف منصوبوں پر کام کیا ہے۔ ڈیجیٹلائزیشن اسی وسیع اصلاحاتی عمل کا ایک حصہ ہے جس کا مقصد آمدن میں رساؤ کم کرنا اور خدمات کی نگرانی بہتر بنانا ہے۔
آن لائن اور ڈیجیٹل ٹکٹنگ مسافروں کے لیے بکنگ کے عمل کو آسان بنانے کے ساتھ ریلوے انتظامیہ کو فروخت کا زیادہ منظم ریکارڈ فراہم کر سکتی ہے۔ اسی طرح مال برداری کے نظام میں ٹیکنالوجی کے بہتر استعمال سے بکنگ، ٹریکنگ اور ادائیگی کے مراحل میں شفافیت بڑھانے کی گنجائش موجود ہے۔ سرکاری اعلان میں، تاہم، تمام مجوزہ ڈیجیٹل منصوبوں کے لیے الگ الگ تکمیل کی تاریخیں نہیں بتائی گئیں۔
وزارت ریلوے کے لیے اب اہم مرحلہ یہ ہوگا کہ ڈیجیٹل سہولتوں کو بڑے شہروں اور مرکزی روٹس کے ساتھ پورے نیٹ ورک میں قابلِ اعتماد بنایا جائے اور مالی ہدف کو حقیقی آپریشنل بہتری سے جوڑا جائے۔ 160 ارب روپے کی مقررہ آمدن کا ہدف اسی وقت مکمل کامیابی تصور ہوگا جب سالانہ حسابات میں اس کی وصولی کی تصدیق ہو جائے۔
