آئل اینڈ گیس ڈیولپمنٹ کمپنی لمیٹڈ کے بورڈ آف ڈائریکٹرز نے 30 جون 2026 کو ختم ہونے والے مالی سال کے نتائج منظور کرتے ہوئے 242 ارب 37 کروڑ 40 لاکھ روپے کا بعد از ٹیکس منافع رپورٹ کیا ہے۔ کمپنی کے سرکاری بیان اور ڈان کی رپورٹ کے مطابق یہ او جی ڈی سی ایل کا اب تک کا بلند ترین سالانہ منافع ہے اور مالی سال 2024-25 کے تقریباً 169.9 ارب روپے کے مقابلے میں 43 فیصد اضافہ ظاہر کرتا ہے۔

کمپنی کی خالص فروخت آمدن مالی سال کے دوران 449 ارب 19 کروڑ 10 لاکھ روپے رہی۔ فی حصص آمدن گزشتہ سال کے 39.50 روپے سے بڑھ کر 56.35 روپے ہوگئی۔ یہ حساب کمپنی کے جاری کردہ مالی نتائج پر مبنی ہے؛ سرمایہ کار کے لیے حصص کی آئندہ قیمت یا منافع کی ضمانت نہیں، کیونکہ مارکیٹ ویلیو عالمی تیل و گیس نرخوں، پیداوار، پالیسی اور مجموعی سرمایہ منڈی سمیت متعدد عوامل سے بدلتی ہے۔

بورڈ نے 6 روپے فی حصص، یعنی 60 فیصد، حتمی نقد منافع کا اعلان کیا ہے۔ کمپنی پہلے ہی مالی سال کے دوران مجموعی طور پر 11 روپے فی حصص عبوری منافع دے چکی تھی، جس سے پورے سال کا اعلان شدہ نقد منافع 17 روپے فی حصص یا 170 فیصد بنتا ہے۔ حتمی منافع کی ادائیگی متعلقہ کارپوریٹ کارروائی، ریکارڈ تاریخ اور جہاں لازم ہو حصص یافتگان کی منظوری کے تابع ہوگی؛ اسے فوری طور پر ہر سرمایہ کار کے کھاتے میں جمع شدہ رقم نہیں سمجھنا چاہیے۔

ڈان کے مطابق سال کے پہلے نو ماہ میں بعد از ٹیکس منافع تقریباً 115 ارب روپے تھا، جبکہ آخری سہ ماہی میں عالمی تیل قیمتوں کی غیر معمولی تیزی نے آمدن اور منافع بڑھانے میں اہم کردار ادا کیا۔ کمپنی کے مطابق پورے سال کے دوران سرکاری خزانے میں کارپوریٹ ٹیکس، حکومتی حصص کے منافع، رائلٹی اور دیگر محصولات کی صورت میں تقریباً 187 ارب روپے جمع کرائے گئے۔ یہ قومی خزانے میں مختلف مدات کی مجموعی شراکت ہے، صرف انکم ٹیکس نہیں۔

او جی ڈی سی ایل نے سالانہ وصولیاں 577 ارب روپے اور مجموعی کلیکشن شرح 107 فیصد بتائی ہے۔ سو فیصد سے زیادہ شرح اس لیے ممکن ہوسکتی ہے کہ موجودہ سال کی بلنگ کے ساتھ سابقہ واجبات بھی وصول ہوں؛ اسے موجودہ سال کی فروخت سے براہ راست ایک ہی تناسب سمجھنا درست نہیں۔ کمپنی نے ملکی پیداوار کے ذریعے درآمدی متبادل سے 3.31 ارب ڈالر کے تخمینی زرمبادلہ بچاؤ کا بھی دعویٰ کیا ہے۔ یہ کمپنی کا تخمینہ ہے، نقد زرمبادلہ آمدن یا بینک ذخائر میں اتنی ہی براہ راست رقم شامل ہونے کی تصدیق نہیں۔

عملی کارکردگی میں کمپنی نے نو تیل و گیس دریافتیں، ثابت شدہ اور ممکنہ ذخائر میں 120 ملین بیرل تیل کے مساوی اضافہ اور 236 فیصد ذخائر متبادل شرح رپورٹ کی۔ سال کے دوران 23 کنوؤں پر ڈرلنگ شروع ہوئی اور مجموعی طور پر 58 ہزار 333 میٹر کھدائی کی گئی۔ ذخائر کے تخمینے ارضیاتی اور تجارتی مفروضوں پر مبنی ہوتے ہیں اور کسی دریافت کو مکمل پیداوار میں لانے کے لیے جانچ، ترقیاتی منصوبہ، منظوری اور بنیادی ڈھانچہ درکار ہوتا ہے۔

اوسط روزانہ قابلِ فروخت پیداوار 32 ہزار 861 بیرل خام تیل، 667 ملین مکعب فٹ گیس اور 670 ٹن ایل پی جی بتائی گئی۔ کمپنی کے مطابق گزشتہ سال سے خام تیل میں 6.3 فیصد، گیس میں 2.3 فیصد اور ایل پی جی میں 4.4 فیصد اضافہ ہوا، حالانکہ بعض مقامات پر پیداوار محدود رکھنے کے مسائل موجود رہے۔ بارگ زئی ایکس-1 کو پیداوار میں شامل کرنے، جھل مگسی ترقیاتی منصوبہ چلانے اور دخنی کمپریشن منصوبہ مکمل کرنے کو اہم آپریشنل پیش رفت میں شمار کیا گیا۔

فی الحال تصدیق شدہ نتیجہ بورڈ سے منظور شدہ سالانہ مالی اعداد، 242.374 ارب روپے بعد از ٹیکس منافع، 449.191 ارب روپے فروخت آمدن اور 6 روپے فی حصص حتمی نقد منافع کا اعلان ہے۔ ریکارڈ منافع کے باوجود آئندہ سال کی کارکردگی کا انحصار پیداوار، عالمی قیمتوں، وصولیوں اور نئے ذخائر کو تجارتی پیداوار میں بدلنے کی رفتار پر ہوگا۔