اسلام آباد: آئل اینڈ گیس ڈیولپمنٹ کمپنی لمیٹڈ، او جی ڈی سی ایل، نے مالی سال 2025-26 کے لیے 242 ارب 37 کروڑ 40 لاکھ روپے کا ریکارڈ بعد از ٹیکس منافع رپورٹ کیا ہے۔ کمپنی کے بورڈ آف ڈائریکٹرز نے 4 ستمبر کو سالانہ مالی نتائج کی منظوری دی، جن کے مطابق منافع گزشتہ مالی سال کے تقریباً 169 ارب 90 کروڑ روپے کے مقابلے میں 43 فیصد بڑھا۔

نتائج کے مطابق او جی ڈی سی ایل کی خالص فروخت 449 ارب 19 کروڑ 10 لاکھ روپے رہی، جبکہ فی حصص آمدن 39 روپے 50 پیسے سے بڑھ کر 56 روپے 35 پیسے ہوگئی۔ بورڈ نے چھ روپے فی حصص، یعنی 60 فیصد، حتمی نقد منافع کی سفارش کی ہے۔ پہلے سے ادا شدہ 11 روپے فی حصص عبوری منافع کو شامل کیا جائے تو مالی سال کے لیے مجموعی نقد منافع 17 روپے فی حصص بنتا ہے، جسے کمپنی نے اپنی تاریخ کی بلند ترین سالانہ تقسیم قرار دیا۔

کمپنی کے اعداد کے مطابق مالی سال کے پہلے نو ماہ، جولائی 2025 سے مارچ 2026، میں بعد از ٹیکس منافع تقریباً 115 ارب روپے تھا، جو گزشتہ سال کی اسی مدت کے 130 ارب روپے سے کم تھا۔ تاہم مالی سال کی آخری سہ ماہی میں عالمی تیل قیمتوں میں تیزی سے کمپنی کو تقریباً 128 ارب روپے کا بعد از ٹیکس منافع ہوا، جو پہلے تین سہ ماہیوں کے مجموعی منافع سے بھی زیادہ تھا۔ اس غیر معمولی آخری سہ ماہی نے سالانہ نتیجے کو ریکارڈ سطح تک پہنچانے میں مرکزی کردار ادا کیا۔

او جی ڈی سی ایل نے بتایا کہ اس نے ٹیکس، منافع، رائلٹی اور دیگر سرکاری واجبات کی مد میں قومی خزانے کو 187 ارب روپے فراہم کیے۔ کمپنی کے مطابق مقامی تیل و گیس پیداوار سے درآمدات کے متبادل کے طور پر تقریباً 3.31 ارب ڈالر کے زرمبادلہ کی بچت ہوئی۔ سال کے دوران وصولیوں کی مجموعی شرح 107 فیصد رہی اور کمپنی نے 577 ارب روپے کی وصولیاں ریکارڈ کیں۔

آپریشنل کارکردگی میں بھی کئی اعداد جاری کیے گئے ہیں۔ کمپنی نے نو تیل و گیس دریافتوں کی اطلاع دی، جن سے ثابت شدہ اور ممکنہ ذخائر میں 120 ملین بیرل تیل کے مساوی اضافہ ہوا۔ او جی ڈی سی ایل کے مطابق ذخائر کی تبدیلی کی شرح 236 فیصد رہی، 23 نئے کنوؤں پر کام شروع کیا گیا اور 58 ہزار 333 میٹر ڈرلنگ کی گئی، جو گزشتہ پانچ برس کی بلند ترین سطح ہے۔

مالی سال کے دوران اوسط یومیہ قابلِ فروخت پیداوار 32 ہزار 861 بیرل خام تیل، 667 ملین مکعب فٹ گیس اور 670 ٹن ایل پی جی رہی۔ کمپنی نے اپریل 2026 میں مجموعی خام تیل پیداوار 40 ہزار بیرل یومیہ سے اوپر لے جانے، بارکزئی ایکس-1 کنویں کو پیداوار میں شامل کرنے اور جھل مگسی و ڈکھنی منصوبوں پر پیش رفت کی بھی اطلاع دی۔

او جی ڈی سی ایل نے سندھ کے ضلع خیرپور میں جیو تھرمل نمکین پانی سے اعلیٰ معیار کے لیتھیم کی پہلی بڑی دریافت کی تصدیق کا بھی ذکر کیا ہے، تاہم اس دریافت کی تجارتی مقدار، نکالنے کی لاگت اور پیداوار شروع ہونے کی مدت سے متعلق تفصیلی آزادانہ تخمینہ ابھی سامنے نہیں آیا۔ کمپنی کے سالانہ اعداد بورڈ سے منظور شدہ نتائج پر مبنی ہیں؛ حتمی نقد منافع متعلقہ کارپوریٹ منظوریوں اور ادائیگی کے طریقۂ کار کے تحت حصص یافتگان کو دیا جائے گا۔