اسلام آباد: آئل اینڈ گیس ڈیولپمنٹ کمپنی لمیٹڈ، او جی ڈی سی ایل، نے مالی سال 2025-26 کے لیے 242.374 ارب روپے کا ریکارڈ بعد از ٹیکس منافع رپورٹ کیا ہے۔ کمپنی کے بورڈ آف ڈائریکٹرز کی منظور کردہ مالیاتی تفصیل کے مطابق یہ رقم گزشتہ مالی سال کے تقریباً 169 ارب روپے کے مقابلے میں 43 فیصد زیادہ ہے۔ خالص فروخت کی آمدن 449.191 ارب روپے رہی، جبکہ فی حصص آمدن گزشتہ سال کے 39.50 روپے سے بڑھ کر 56.35 روپے ہو گئی۔
بورڈ نے سال کے اختتام پر 6 روپے فی حصص، یعنی 60 فیصد، حتمی نقد منافع کی منظوری بھی دی۔ کمپنی پہلے ہی مجموعی طور پر 11 روپے فی حصص عبوری منافع ادا کر چکی تھی، جس کے بعد پورے سال کا نقد منافع 17 روپے فی حصص یا 170 فیصد بنتا ہے۔ یہ اعلان حصص یافتگان کے لیے تقسیم کی منظوری ہے؛ ہر سرمایہ کار کو ملنے والی مجموعی رقم اس کے پاس موجود اہل حصص اور متعلقہ قانونی و ٹیکس شرائط پر منحصر ہوگی۔
ڈان کی رپورٹ کے مطابق مالی سال کے پہلے نو ماہ، جولائی 2025 سے مارچ 2026، میں بعد از ٹیکس منافع تقریباً 115 ارب روپے تھا، جو ایک سال پہلے کی اسی مدت کے 130 ارب روپے سے کم تھا۔ تاہم بعد کے مہینوں میں عالمی تیل قیمتوں میں تیز اضافے سے کمپنی کی آمدن میں نمایاں بہتری آئی اور آخری سہ ماہی کا بعد از ٹیکس منافع تقریباً 128 ارب روپے بتایا گیا۔ قیمتوں کے اثر سے متعلق یہ تشریح کمپنی اور شائع شدہ مالی تجزیے پر مبنی ہے؛ مستقبل میں یہی سطح برقرار رہنا یقینی نہیں۔
او جی ڈی سی ایل نے کہا کہ اس نے سال کے دوران کارپوریٹ ٹیکس، منافعِ حصص، رائلٹی اور دیگر سرکاری محصولات کی صورت میں قومی خزانے کو 187 ارب روپے دیے۔ مقامی تیل و گیس پیداوار سے درآمدی متبادل کی بنیاد پر 3.31 ارب ڈالر کے تخمینی زرمبادلہ کی بچت بتائی گئی، جبکہ وصولیوں کا مجموعی تناسب 107 فیصد اور اکٹھی کی گئی رقم 577 ارب روپے رہی۔ زرمبادلہ بچت ایک کمپنی تخمینہ ہے، براہِ راست نقد آمدن نہیں۔
آپریشنل اعداد کے مطابق کمپنی نے نو تیل و گیس دریافتیں کیں، ثابت شدہ اور ممکنہ ذخائر میں 120 ملین بیرل آئل ایکویویلنٹ کا اضافہ بتایا اور ذخائر کے متبادل کا تناسب 236 فیصد رپورٹ کیا۔ سال میں 23 کنویں شروع کیے گئے اور مجموعی طور پر 58 ہزار 333 میٹر کھدائی ہوئی۔ اوسط یومیہ قابلِ فروخت پیداوار 32 ہزار 861 بیرل خام تیل، 667 ملین مکعب فٹ گیس اور 670 ٹن ایل پی جی رہی۔
کمپنی کے مطابق 30 جون 2026 تک اس کی مارکیٹ کیپٹلائزیشن تقریباً 1.44 ٹریلین روپے تھی اور مالی سال کے دوران حصص کی قیمت میں 52 فیصد اضافہ ہوا، جبکہ اسی مدت میں کے ایس ای-100 انڈیکس 44 فیصد بڑھا۔ مالی نتائج ماضی کی کارکردگی کا ریکارڈ ہیں؛ عالمی توانائی قیمتیں، پیداواری بندشیں، وصولیاں اور نئی دریافتوں کی تجارتی صلاحیت آئندہ نتائج پر اثر انداز ہو سکتی ہیں۔




