اسلام آباد میں سینیٹ کے اجلاس کے دوران آئل اینڈ گیس ریگولیٹری اتھارٹی ترمیمی بل 2026 پیش کر دیا گیا ہے جس میں قدرتی گیس کی قیمتوں کے تعین کے لیے سہ ماہی طریقہ کار متعارف کرانے کی تجویز دی گئی ہے۔ بل وزیر مملکت برائے داخلہ طلال چوہدری نے ایوان میں پیش کیا اور اس کے ذریعے اوگرا آرڈیننس 2002 میں نئی دفعہ 8A شامل کرنے کی تجویز ہے۔

مجوزہ نظام کے تحت قدرتی گیس کا لائسنس یافتہ ادارہ ہر سہ ماہی اپنی مجموعی ریونیو ضرورت کا وہ حصہ اوگرا کے سامنے پیش کرے گا جو ویل ہیڈ گیس کی قیمت اور درآمدی گیس، بشمول ری گیسیفائیڈ لیکویفائیڈ نیچرل گیس، کی لاگت سے متعلق ہوگا۔ ریگولیٹر اس درخواست کا جائزہ لینے کے بعد وفاقی حکومت کو سفارش دے گا۔

بل کے مطابق وفاقی حکومت کو اوگرا کی سفارش ملنے کے 30 دن کے اندر مختلف اقسام کے ریٹیل صارفین کے لیے کم از کم چارجز اور فروخت کی قیمتوں سے متعلق مشورہ دینا ہوگا، جس کے بعد قیمتیں گزٹ نوٹیفکیشن کے ذریعے نافذ کی جا سکیں گی۔ وفاقی حکومت کو یہ اختیار دینے کی تجویز بھی ہے کہ سہ ماہی ایڈجسٹمنٹ کا پورا یا کچھ حصہ آئندہ ششماہی تعین تک منتقل کیا جا سکے۔

مجوزہ قانون کی ایک اہم شق میں کہا گیا ہے کہ دفعہ 8A کے تحت مقررہ قیمتوں کی نظرثانی کے لیے اوگرا عوامی سماعت نہیں کرے گا۔ یہ شق موجودہ ریگولیٹری طریقہ کار اور صارفین کی شرکت کے حوالے سے پارلیمانی بحث کا باعث بن سکتی ہے، تاہم بل ابھی قانون نہیں بنا اور اس کی حتمی شکل پارلیمانی کارروائی کے بعد ہی واضح ہوگی۔

بل کے اغراض و مقاصد میں کہا گیا ہے کہ سہ ماہی ایڈجسٹمنٹ کا مقصد روپے اور ڈالر کی شرح مبادلہ میں تبدیلیوں کو بروقت ٹیرف میں شامل کرنا، قیمتوں کو مارکیٹ کی حقیقی صورتحال کے قریب لانا، گیس کے شعبے میں گردشی قرض کے مزید جمع ہونے کو روکنا اور سپلائی چین کی مالی و آپریشنل پائیداری بہتر بنانا ہے۔

یہ تجویز ایسے وقت سامنے آئی ہے جب ایندھن کی قیمتوں میں نسبتاً زیادہ تواتر سے تبدیلی پر صارفین اور سیاسی حلقوں میں بحث جاری ہے۔ اگر بل پارلیمان سے منظور ہو کر نافذ ہوتا ہے تو قدرتی گیس کی لاگت میں تبدیلیوں کو موجودہ نظام کے مقابلے میں زیادہ باقاعدگی سے صارف ٹیرف میں منتقل کرنے کی قانونی بنیاد بن سکتی ہے۔