لاہور: وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز نے صوبے کی معاشی اور صنعتی تبدیلی کے لیے تین سالہ پروگرام شروع کیا ہے جسے پنجاب انوویشن فار ویلیو، اپرچونٹی اینڈ ٹرانسفارمیشن کے نام سے پیش کیا گیا ہے۔ سرکاری ریڈیو اور دیگر پاکستانی ذرائع کے مطابق اس اقدام کا مقصد جدید ٹیکنالوجی، کاروباری جدت، صنعتوں کی مسابقت اور ہنرمند افرادی قوت کو فروغ دے کر صوبائی معیشت کی پیداواری صلاحیت بہتر بنانا ہے۔
افتتاحی تقریب سے خطاب میں وزیراعلیٰ نے کہا کہ پنجاب قومی معیشت میں اہم کردار رکھتا ہے اور پائیدار صنعتی ترقی کے لیے جدید ٹیکنالوجی، تربیت یافتہ افرادی قوت اور کاروبار دوست ماحول ضروری ہیں۔ انہوں نے صوبائی حکومت کی مختلف اصلاحات کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ آسان کاروبار اسکیم کے تحت تقریباً 200 ارب روپے کے قرضے فراہم کیے جا چکے ہیں، جبکہ ای بز نظام کے ذریعے دو لاکھ سے زیادہ افراد نے این او سیز اور دیگر اجازت نامے حاصل کیے ہیں۔ یہ اعدادوشمار صوبائی حکومت کی جانب سے بیان کیے گئے ہیں۔
پاکستان ٹوڈے کے مطابق وزیراعلیٰ نے صنعتوں کو جدید تقاضوں سے ہم آہنگ کرنے، مقامی سطح پر سرٹیفکیشن سہولتیں بہتر بنانے اور سرکاری طریقہ کار میں غیر ضروری رکاوٹیں کم کرنے پر زور دیا۔ انہوں نے کہا کہ حکومت ٹیکس کی شرح بڑھانے کے بجائے ٹیکس بیس وسیع کرنے کی پالیسی پر کام کر رہی ہے۔ انہوں نے صوبائی آمدن میں اضافے سے متعلق اعدادوشمار بھی پیش کیے، تاہم یہ دعوے ان کی تقریر سے منسوب ہیں۔
حکومت نے نوجوانوں کی ہنرمندی کو صنعتی ضروریات سے جوڑنے کو بھی پروگرام کا اہم حصہ قرار دیا ہے۔ وزیراعلیٰ کے مطابق پنجاب میں دس لاکھ ہنرمند کارکنوں کی تربیت کا ہدف رکھا گیا ہے اور اسٹارٹ اپ سرگرمیوں کو وسعت دینے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ انہوں نے انتظامی شفافیت اور کاروباری سہولت کاری بہتر بنانے کا وعدہ بھی کیا۔
PIET کے آغاز کو صوبائی حکومت نے ڈیجیٹل اور صنعتی پالیسی کے مختلف حصوں کو ایک وسیع معاشی تبدیلی کے فریم ورک میں جوڑنے کی کوشش کے طور پر پیش کیا ہے۔ پروگرام کی عملی کامیابی کا انحصار طے شدہ اہداف، تربیتی پروگراموں، صنعت کے ساتھ روابط اور کاروباری منظوریوں میں آسانی کے نتائج پر ہوگا۔ دستیاب معلومات میں پروگرام کے تمام مالی اور مرحلہ وار نفاذی اہداف کی مکمل تفصیل نہیں دی گئی، اس لیے آئندہ پیش رفت کے ساتھ اس کے نتائج زیادہ واضح ہوں گے۔
