اسلام آباد: پاکستان اور سنگاپور نے دوطرفہ تجارت، سرمایہ کاری اور ادارہ جاتی تعاون کو وسعت دینے کے ساتھ تعلیم، انفارمیشن ٹیکنالوجی، خوراک کے تحفظ اور آفات سے نمٹنے سمیت متعدد شعبوں میں روابط مضبوط کرنے پر اتفاق کیا ہے۔ وزارت خارجہ سے جاری سرکاری تفصیلات کے مطابق نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار اور سنگاپور کے وزیر خارجہ ڈاکٹر ویوین بالاکرشنن نے اسلام آباد میں وفود کی سطح پر مذاکرات کیے۔

مذاکرات میں تجارت اور سرمایہ کاری بڑھانے، زراعت اور فوڈ سکیورٹی میں تعاون، سیاحت اور کاروباری تبادلوں کے لیے رابطہ کاری بہتر بنانے اور تعلیمی و فنی تربیت کے شعبوں میں اشتراک پر گفتگو ہوئی۔ دونوں جانب سے آفات سے نمٹنے اور آئی ٹی میں تعاون کے امکانات بھی زیر بحث آئے۔ سنگاپور کے وزیر خارجہ نے کاربن مارکیٹس کو پاکستان میں سبز سرمایہ کاری لانے کے ایک ممکنہ ذریعے کے طور پر اجاگر کیا۔

اسحاق ڈار نے دونوں ممالک کے درمیان معاشی تعلقات کو مزید مضبوط بنانے کے لیے باقاعدہ ادارہ جاتی طریقہ کار اور فیصلوں پر مسلسل فالو اپ کی ضرورت پر زور دیا۔ پاکستانی ذرائع کے مطابق فریقین نے کاروباری اداروں اور سرمایہ کاروں کے درمیان براہ راست روابط بڑھانے میں بھی دلچسپی ظاہر کی۔ پاکستان نے سنگاپور میں اپنے تجارتی و سرمایہ کاری دفتر کی فعالیت کو اقتصادی روابط بڑھانے کی کوششوں کا حصہ قرار دیا ہے۔

دونوں وزرائے خارجہ نے علاقائی اور عالمی صورتحال پر بھی تبادلہ خیال کیا۔ سرکاری بیان کے مطابق سنگاپور کے وزیر خارجہ نے خطے میں مذاکرات اور سفارت کاری کے لیے پاکستان کی کوششوں کا ذکر کیا۔ پاکستان کی شنگھائی تعاون تنظیم کی چیئرمین شپ اور 2027 میں سنگاپور کی آسیان چیئرمین شپ کے تناظر میں کثیرالجہتی تعاون اور پاکستان کے آسیان کے ساتھ روابط مضبوط کرنے پر بھی بات ہوئی۔

دونوں ممالک کے سفارتی تعلقات کے 60 سال مکمل ہونے کے موقع پر ہونے والے اس دورے کو اقتصادی روابط میں نئی رفتار پیدا کرنے کی کوشش کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔ فریقین نے طے شدہ امور پر بروقت پیش رفت اور رابطہ برقرار رکھنے پر اتفاق کیا۔ مذاکرات میں جن شعبوں کی نشاندہی کی گئی، ان میں عملی منصوبوں اور سرمایہ کاری کی مالیت سے متعلق مکمل تفصیلات فوری طور پر جاری نہیں کی گئیں، اس لیے آئندہ معاہدے اور ادارہ جاتی فیصلے تعاون کی عملی وسعت متعین کریں گے۔