اسلام آباد: وفاقی حکومت نے پیٹرول کی قیمت میں کوئی تبدیلی نہ کرنے جبکہ ہائی اسپیڈ ڈیزل کی قیمت میں 2 روپے 29 پیسے فی لیٹر اضافے کا اعلان کیا ہے۔ پیٹرولیم ڈویژن کے نوٹیفکیشن کے مطابق پیٹرول 377 روپے 91 پیسے فی لیٹر پر برقرار رہے گا، جبکہ ہائی اسپیڈ ڈیزل کی نئی قیمت 402 روپے 96 پیسے فی لیٹر ہوگی۔ نئی قیمتوں کا اطلاق 31 اکتوبر سے ہوگا اور یہ 2 نومبر تک نافذ رہیں گی۔

یہ مسلسل دوسرا دن ہے جب پیٹرول کی قیمت برقرار رکھی گئی ہے۔ حکومت نے حالیہ مہینوں میں عالمی تیل منڈی میں تیز اتار چڑھاؤ کے باعث قیمتوں کے تعین کا دورانیہ مختصر کیا تھا۔ تازہ فیصلے میں ڈیزل کی قیمت 400 روپے فی لیٹر سے اوپر چلی گئی ہے، جس کا اثر مال برداری، پبلک ٹرانسپورٹ، زرعی سرگرمیوں اور ڈیزل استعمال کرنے والے بجلی کے متبادل ذرائع کی لاگت پر پڑ سکتا ہے۔

رپورٹ کے مطابق حکومت پیٹرول پر مجموعی طور پر 114 روپے فی لیٹر اور ڈیزل پر 100 روپے فی لیٹر ٹیکس اور ڈیوٹیز وصول کر رہی ہے۔ پیٹرول عام طور پر موٹر سائیکلوں، رکشوں اور چھوٹی گاڑیوں میں زیادہ استعمال ہوتا ہے، جبکہ ہائی اسپیڈ ڈیزل بھاری ٹرانسپورٹ، بعض پاور پلانٹس اور بڑے جنریٹرز میں استعمال ہونے کے باعث اشیا کی ترسیل اور کاروباری لاگت سے براہ راست جڑا ہوا ہے۔

حالیہ عرصے میں پٹرولیم لیوی کے معاملے پر سیاسی دباؤ بھی بڑھا ہے۔ جماعت اسلامی کے امیر حافظ نعیم الرحمٰن نے وزیراعظم شہباز شریف سے ملاقات میں لیوی ختم کرکے عوام کو ریلیف دینے کا مطالبہ کیا تھا، جس کے بعد حکومت اور جماعت اسلامی کی مشترکہ کمیٹی بنانے پر اتفاق سامنے آیا۔ حکومت پہلے ہی موٹر سائیکل، رکشا اور 800 سی سی تک گاڑیوں کے صارفین کے لیے ہدفی ریلیف اسکیم چلا رہی ہے۔

عالمی منڈی اور مشرق وسطیٰ کی کشیدگی نے رواں سال پاکستان میں ایندھن کی قیمتوں کو غیر معمولی طور پر متاثر کیا ہے۔ سرکاری نوٹیفکیشن میں موجودہ نرخ مختصر مدت کے لیے مقرر کیے گئے ہیں، اس لیے اگلی نظرثانی میں عالمی خام تیل، درآمدی لاگت اور شرح مبادلہ کی تبدیلیاں دوبارہ قیمتوں پر اثرانداز ہوسکتی ہیں۔