اسلام آباد: وفاقی وزیر خزانہ و محصولات سینیٹر محمد اورنگزیب کی زیر صدارت کیپیٹل مارکیٹ ڈیولپمنٹ کونسل کے چوتھے اجلاس میں پاکستان کی کارپوریٹ قرض منڈی کو وسعت دینے، اجرا کنندگان اور سرمایہ کاروں کی تعداد بڑھانے، مارکیٹ انفراسٹرکچر بہتر بنانے اور طویل مدتی فنانسنگ تک رسائی میں اضافے کے لیے جاری اصلاحات کا جائزہ لیا گیا۔ وزارت خزانہ کے سرکاری بیان کے مطابق اجلاس میں سابقہ فیصلوں پر عمل درآمد بھی زیر بحث آیا۔
کونسل کو کارپوریٹ قرض کے اجرا، سیکیورٹیز کی لسٹنگ میں سہولت، ثانوی منڈی میں تجارت اور ادارہ جاتی سرمایہ کاروں کی شمولیت کے حوالے سے ہونے والی پیش رفت سے آگاہ کیا گیا۔ وزیر خزانہ نے متعلقہ اداروں کی جانب سے کیے گئے اقدامات کو سراہتے ہوئے کہا کہ اصلاحاتی رفتار برقرار رکھنے کے لیے مختلف اداروں کے درمیان مربوط اور مقررہ مدت کے اندر عمل درآمد ضروری ہے۔
کارپوریٹ قرض منڈی کمپنیوں اور دیگر اہل اداروں کو بینک قرض کے علاوہ بانڈز، سکوک یا دوسرے قرضی آلات کے ذریعے سرمایہ حاصل کرنے کا راستہ فراہم کرتی ہے۔ ایک فعال ثانوی منڈی سرمایہ کاروں کو ان آلات کی خرید و فروخت میں زیادہ سہولت دے سکتی ہے، جبکہ وسیع سرمایہ کار بنیاد سے طویل مدت کے منصوبوں کے لیے مالی وسائل کے نئے ذرائع پیدا ہو سکتے ہیں۔ اجلاس میں انہی پہلوؤں کو اصلاحاتی ایجنڈے کے اہم حصوں کے طور پر دیکھا گیا۔
سرکاری بیان کے مطابق کونسل نے مارکیٹ کے بنیادی ڈھانچے اور سرمایہ کاری کے ماحول کو مزید مؤثر بنانے کے لیے جاری اقدامات کا بھی جائزہ لیا۔ حکومت کا ہدف سرمایہ کاری کو متحرک کرنا اور نجی شعبے کے لیے طویل مدتی سرمائے تک رسائی کے امکانات بہتر بنانا ہے۔ تاہم اجلاس میں زیر بحث اصلاحات کے تمام نتائج فوری طور پر حاصل شدہ کامیابی نہیں بلکہ جاری پالیسی اور نفاذی عمل کا حصہ ہیں۔
پاکستان کی مالیاتی منڈی میں بینکاری شعبہ طویل عرصے سے کاروباری فنانسنگ کا اہم ذریعہ رہا ہے۔ کارپوریٹ قرض منڈی کو گہرا کرنے کی پالیسی کا مقصد فنانسنگ کے ذرائع میں تنوع پیدا کرنا اور ایسے ادارہ جاتی سرمایہ کاروں کی شمولیت بڑھانا ہے جو نسبتاً طویل مدت کے قرضی آلات میں سرمایہ کاری کر سکتے ہیں۔ اس عمل میں شفاف قیمت بندی، مناسب افشا، مؤثر لسٹنگ اور ثانوی منڈی میں لیکویڈیٹی اہم عناصر شمار ہوتے ہیں۔
وزیر خزانہ نے متعلقہ اداروں سے کہا کہ سابقہ اجلاسوں میں طے کیے گئے اقدامات کو وقت پر آگے بڑھایا جائے اور حاصل ہونے والی پیش رفت کو مزید مضبوط کیا جائے۔ سرکاری اعلامیے میں کسی ایک نئے قرضی اجرا یا مخصوص سرمایہ کاری رقم کی حتمی منظوری کا اعلان نہیں کیا گیا، اس لیے اجلاس کا بنیادی نتیجہ اصلاحاتی عمل کی نگرانی اور آئندہ اقدامات کی رفتار برقرار رکھنے کی ہدایت ہے۔
کونسل کی آئندہ پیش رفت کا عملی پیمانہ یہ ہوگا کہ نئی کارپوریٹ سیکیورٹیز کے اجرا، لسٹنگ، تجارت اور سرمایہ کاروں کی شرکت میں کس حد تک اضافہ ہوتا ہے۔ فی الحال حکومت نے سرمایہ منڈی کو طویل مدتی فنانسنگ اور سرمایہ کاری کے لیے زیادہ مؤثر ذریعہ بنانے کو اپنی مالیاتی اصلاحات کے اہم حصے کے طور پر برقرار رکھا ہے۔

