اسلام آباد: آئل اینڈ گیس ریگولیٹری اتھارٹی نے ستمبر کے لیے ری گیسیفائیڈ لیکویفائیڈ نیچرل گیس کی قیمتوں میں تقریباً 20 فیصد کمی کر دی ہے۔ نئی قیمتیں سوئی ناردرن گیس پائپ لائنز اور سوئی سدرن گیس کمپنی کے ترسیلی اور تقسیمی نظام پر لاگو ہوں گی۔ اوگرا کے مطابق کمی کی بنیادی وجہ قطر سے دو نسبتاً سستے ایل این جی کارگو کی دستیابی ہے۔

ستمبر میں دو کارگو کی اوسط ڈیلیورڈ ایکس شپ قیمت 10.06 ڈالر فی ملین برٹش تھرمل یونٹ رہی، جو اگست میں 12.12 ڈالر اور جولائی میں 18.96 ڈالر فی ایم ایم بی ٹی یو تھی۔ جولائی میں بین الاقوامی سپاٹ مارکیٹ سے مختصر نوٹس پر مہنگے کارگو خریدنے پڑے تھے، جس سے آر ایل این جی کی لاگت میں نمایاں اضافہ ہوا تھا۔ موجودہ کمی سے بجلی پیدا کرنے والے پلانٹس کے ایندھن کے اخراجات میں بھی کمی متوقع ہے۔

اوگرا نوٹیفکیشن کے مطابق سوئی ناردرن کے لیے ٹرانسمیشن سطح پر آر ایل این جی قیمت اگست کے 17.49 ڈالر سے کم ہو کر ستمبر میں 13.99 ڈالر فی ایم ایم بی ٹی یو ہوگئی، یعنی تقریباً 19.99 فیصد کمی۔ تقسیمی سطح پر قیمت 19.02 ڈالر سے کم ہو کر 15.196 ڈالر فی ایم ایم بی ٹی یو ہوگئی۔

سوئی سدرن کے لیے ٹرانسمیشن قیمت 16.07 ڈالر سے کم ہو کر 12.611 ڈالر فی ایم ایم بی ٹی یو ہوئی، جو 21.53 فیصد کمی بنتی ہے۔ تقسیمی سطح پر قیمت 18.13 ڈالر سے کم ہو کر 14.22 ڈالر فی ایم ایم بی ٹی یو مقرر کی گئی۔

تاہم درآمدی قیمت اور صارف تک پہنچنے والی آر ایل این جی کی قیمت کے درمیان فرق بدستور موجود ہے۔ رپورٹ کے مطابق بندرگاہی اخراجات، درآمد کنندگان کے مارجن اور گیس نظام میں نقصانات حتمی قیمت میں شامل ہوتے ہیں۔ سوئی ناردرن کے تقسیمی نظام کے نقصانات تقریباً 9 فیصد اور سوئی سدرن کے 12.55 فیصد بتائے گئے ہیں۔ اس لیے عالمی ایل این جی قیمت میں کمی کا پورا فائدہ براہ راست اسی تناسب سے صارف تک منتقل نہیں ہوتا۔ نئی قیمتیں توانائی کے شعبے کی لاگت اور بجلی کے پیداواری اخراجات کے لیے اہم سمجھی جا رہی ہیں۔