اسلام آباد: آئل اینڈ گیس ریگولیٹری اتھارٹی نے اکتوبر کے لیے ری گیسیفائیڈ لیکویفائیڈ نیچرل گیس (آر ایل این جی) کی فروخت قیمتوں میں 15.3 فیصد تک اضافہ نوٹیفائی کر دیا ہے۔ یہ اضافہ ستمبر میں قیمتوں میں تقریباً 20 فیصد کمی کے بعد سامنے آیا ہے اور اس کی بڑی وجہ عالمی خام تیل کی قیمتوں اور درآمدی ایل این جی کی لاگت میں اضافہ بتایا گیا ہے۔
نوٹیفکیشن کے مطابق سوئی ناردرن گیس پائپ لائنز لمیٹڈ کے لیے ٹرانسمیشن مرحلے پر آر ایل این جی کی قیمت ستمبر کے 13.99 ڈالر سے بڑھ کر اکتوبر میں 15.94 ڈالر فی ایم ایم بی ٹی یو ہوگئی، جو تقریباً 13.9 فیصد اضافہ ہے۔ تقسیم کی سطح پر سوئی ناردرن کی قیمت 15.196 ڈالر سے بڑھا کر 17.33 ڈالر فی ایم ایم بی ٹی یو مقرر کی گئی، یعنی تقریباً 14 فیصد اضافہ۔
سوئی سدرن گیس کمپنی کے لیے ٹرانسمیشن سطح کی قیمت 12.611 ڈالر سے بڑھ کر 14.53 ڈالر فی ایم ایم بی ٹی یو ہوئی، جبکہ تقسیم کی سطح پر نرخ 14.22 ڈالر سے بڑھ کر 16.396 ڈالر فی ایم ایم بی ٹی یو کر دیے گئے۔ تقسیم کی سطح پر سوئی سدرن کے نرخ میں اضافہ تقریباً 15.27 فیصد بنتا ہے۔
اکتوبر میں درآمدی ایل این جی کی اوسط ڈیلیورڈ ایکس شپ قیمت 10.75 ڈالر فی ایم ایم بی ٹی یو رہی، جو ستمبر میں 10.06 ڈالر تھی۔ حتمی آر ایل این جی نرخ میں درآمد، بندرگاہی اخراجات، کمپنی مارجن، ری گیسیفکیشن اور نظامی نقصانات سمیت مختلف عناصر شامل ہوتے ہیں۔ دستیاب اعداد کے مطابق سوئی ناردرن کے تقسیم نظام کے نقصانات تقریباً 8.97 فیصد جبکہ سوئی سدرن کے 12.55 فیصد شمار کیے گئے۔
قیمت میں اضافہ بجلی کی پیداوار کی لاگت پر بھی اثر انداز ہو سکتا ہے کیونکہ پاکستان کے متعدد پاور پلانٹس آر ایل این جی استعمال کرتے ہیں۔ ستمبر میں آر ایل این جی سے بجلی پیدا کرنے کی لاگت تقریباً 40 روپے فی یونٹ بتائی گئی تھی۔ اکتوبر کی بلند ایندھن لاگت کا اثر بعد کے ماہ کے فیول کاسٹ ایڈجسٹمنٹ میں ظاہر ہو سکتا ہے، تاہم صارفین کے حتمی بجلی نرخ کا تعین متعلقہ ریگولیٹری کارروائی اور بجلی کے مجموعی پیداواری مکس کے بعد ہوگا۔
