عالمی منڈی میں 22 ستمبر 2026 کو خام تیل کی قیمتوں میں اضافہ ریکارڈ کیا گیا، جب سرمایہ کاروں نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے دوران امریکا اور ایران کے درمیان ممکنہ رابطوں اور آبنائے ہرمز سے توانائی کی رسد میں بہتری کے اشاروں کا جائزہ لینا شروع کیا۔ رائٹرز کے مطابق یہ پانچ تجارتی سیشنز کے بعد تیل کی قیمتوں میں پہلی نمایاں بہتری تھی۔

برینٹ خام تیل کے نومبر معاہدے کی قیمت 1.14 ڈالر، یعنی تقریباً 1.1 فیصد بڑھ کر 101.48 ڈالر فی بیرل ہو گئی۔ ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ کے اکتوبر معاہدے کی قیمت 87 سینٹ، یعنی 0.9 فیصد اضافے سے 96.65 ڈالر فی بیرل تک پہنچی، جبکہ زیادہ سرگرم نومبر معاہدہ بھی 0.9 فیصد بڑھ کر 93.22 ڈالر فی بیرل رہا۔

بازار کی توجہ نیویارک میں موجود امریکی اور ایرانی قیادت کے ممکنہ رابطوں پر مرکوز ہے۔ ایران اور امریکا کے درمیان حالیہ ہفتوں میں سخت بیانات کا تبادلہ ہوا، تاہم امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایرانی صدر مسعود پزشکیان سے ملاقات کے امکان کے لیے آمادگی ظاہر کی تھی۔ کسی باضابطہ ملاقات یا مذاکراتی ایجنڈے کی اس مرحلے پر حتمی تصدیق نہیں ہوئی، اس لیے مارکیٹ کی موجودہ حرکت بڑی حد تک توقعات اور جغرافیائی سیاسی خطرات کی قیمت بندی سے جڑی ہوئی ہے۔

آبنائے ہرمز عالمی تیل و گیس تجارت کے لیے انتہائی اہم سمندری راستہ ہے۔ حالیہ کشیدگی کے دوران اس راستے سے بعض توانائی ترسیلات میں رکاوٹ کے خدشات نے خام تیل کی قیمتوں پر دباؤ ڈالا تھا۔ ویک اینڈ کے دوران زیادہ کارگوز کے گزرنے کی اطلاعات نے رسد سے متعلق فوری تشویش کچھ کم کی، لیکن خطے کی سکیورٹی صورتحال اب بھی مارکیٹ کے لیے بنیادی خطرہ ہے۔

تیل کی قیمتوں پر صرف ایران امریکا تعلقات اثرانداز نہیں ہوتے؛ عالمی طلب، اوپیک پلس کی پالیسی، امریکی ذخائر، شرح سود اور معاشی نمو کے امکانات بھی اہم عوامل ہیں۔ تاہم مشرق وسطیٰ میں کسی نئی کشیدگی یا آبنائے ہرمز میں رکاوٹ کی صورت میں قیمتیں تیزی سے ردعمل دے سکتی ہیں۔ اس کے برعکس اگر سفارتی رابطوں سے تناؤ کم ہوتا ہے تو رسد کے خطرے سے جڑا اضافی پریمیم کم ہو سکتا ہے۔

پاکستان جیسے درآمدی ایندھن پر انحصار رکھنے والے ممالک کے لیے عالمی خام تیل کی قیمتوں میں ایسی تبدیلیاں براہ راست درآمدی بل اور مقامی پٹرولیم قیمتوں پر دباؤ ڈال سکتی ہیں، اگرچہ مقامی قیمتوں کا حتمی تعین شرح مبادلہ، ٹیکس اور حکومتی قیمت گذاری کے طریقہ کار سے بھی ہوتا ہے۔