کراچی: اوٹسوکا پاکستان لمیٹڈ کے بورڈ آف ڈائریکٹرز نے حب، بلوچستان میں قائم اپنی مینوفیکچرنگ سہولیات کی تنظیم نو کی منظوری دے دی ہے۔ کمپنی کی پاکستان اسٹاک ایکسچینج کو دی گئی مادی معلومات کے مطابق ایک ہزار ملی لیٹر والی مصنوعات کی پیداوار یکم جنوری 2027 سے پروڈکشن لائن ٹو کے بجائے پروڈکشن لائن ون پر منتقل کی جائے گی۔
کمپنی کے فیصلے کے نتیجے میں پروڈکشن لائن ٹو بند رہے گی اور اس سے منسلک فلنگ مشینری غیر استعمال شدہ ہو جائے گی۔ کمپنی کے انکشاف کے مطابق اس مشینری کی کتابی مالیت تقریباً 8 کروڑ 10 لاکھ روپے ہے۔ یہ سہولیات حب انڈسٹریل ٹریڈنگ اسٹیٹ، ضلع لسبیلہ میں واقع ہیں، جہاں اوٹسوکا پاکستان کئی دہائیوں سے طبی محلول اور متعلقہ مصنوعات تیار کر رہی ہے۔
بورڈ نے ایمپول مصنوعات سے متعلق بعض کاروباری اثاثوں اور حقوق کی منتقلی یا فروخت کا منصوبہ بھی منظور کیا ہے۔ ان میں ڈیکٹروز 25 فیصد، پوٹاشیم کلورائیڈ اور میلون شامل ہیں۔ کمپنی کے مطابق متعلقہ اجازت نامے، مصنوعات کی رجسٹریشن، تکنیکی معلومات اور جہاں قابلِ اطلاق ہو وہاں انوینٹری بھی مجوزہ منتقلی یا فروخت کا حصہ ہو سکتی ہے۔ اس عمل کی حتمی شکل متعلقہ تجارتی اور ریگولیٹری تقاضوں کے مطابق سامنے آئے گی۔
اوٹسوکا پاکستان 1988 میں قائم ہوئی اور 1989 میں حب کی فیکٹری سے انٹراوینس سلوشنز کی تجارتی پیداوار شروع کی۔ کمپنی طبی محلول، الیکٹرولائٹ سلوشنز، کاربوہائیڈریٹ سلوشنز اور کلینیکل نیوٹریشن سے متعلق مصنوعات تیار کرتی ہے۔ موجودہ تنظیم نو کو کمپنی کے پیداواری ڈھانچے میں ایک اہم آپریشنل تبدیلی سمجھا جا رہا ہے، کیونکہ اس میں پیداوار کو ایک لائن پر منتقل کرنے کے ساتھ مخصوص مصنوعات سے متعلق حقوق اور اثاثوں کے مستقبل کا فیصلہ بھی شامل ہے۔
کمپنی نے دستیاب انکشاف میں یہ نہیں بتایا کہ تنظیم نو سے مجموعی پیداواری صلاحیت، ملازمین یا مالی نتائج پر کتنا اثر پڑے گا۔ اس لیے ان پہلوؤں پر کسی حتمی نتیجے کے لیے مزید کارپوریٹ انکشافات اور آئندہ مالی بیانات اہم ہوں گے۔ فی الحال تصدیق شدہ پیش رفت یہی ہے کہ بورڈ نے حب سہولت کی تنظیم نو، لائن ٹو کی بندش اور بعض ایمپول مصنوعات سے متعلق اثاثوں و حقوق کی منتقلی یا فروخت کی منظوری دی ہے۔
