اسلام آباد: وفاقی حکومت نے بڑے سرکاری تعمیراتی منصوبوں کے معیار اور بعد از تکمیل جواب دہی بہتر بنانے کے لیے ٹھیکیداروں کی ڈیفیکٹ لائیبلٹی مدت کم از کم تین سال کرنے کی سمت کام شروع کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ بزنس ریکارڈر کے مطابق وفاقی وزیر احد چیمہ کی زیر صدارت تعمیراتی شعبے میں اصلاحات سے متعلق اجلاس میں پاکستان پبلک پروکیورمنٹ ریگولیٹری اتھارٹی کو اس حوالے سے قواعد پر کام شروع کرنے کی ہدایت دی گئی۔

ڈیفیکٹ لائیبلٹی مدت سے مراد وہ عرصہ ہے جس کے دوران منصوبہ مکمل اور حوالے کیے جانے کے بعد سامنے آنے والے طے شدہ نوعیت کے تعمیراتی نقائص کی درستگی کی ذمہ داری ٹھیکیدار پر برقرار رہتی ہے۔ مجوزہ پالیسی کے تحت بڑے عوامی منصوبوں میں یہ مدت کم از کم تین سال یا اس سے زیادہ رکھی جا سکتی ہے، جبکہ چھوٹے منصوبوں کے لیے اس نظام کو مرحلہ وار متعارف کرانے پر غور کیا جا رہا ہے۔

اجلاس میں تعمیراتی صنعت کے ادارہ جاتی ڈھانچے سے متعلق مجوزہ کنسٹرکشن انڈسٹری ڈیولپمنٹ اتھارٹی بل بھی زیر بحث آیا۔ حکام اور صنعت کے نمائندوں نے اس سوال پر غور کیا کہ تعمیراتی شعبے کی ریگولیشن اور اس کی ترقی و فروغ کی ذمہ داریاں ایک ہی ادارے کے پاس ہونی چاہئیں یا الگ انتظامات زیادہ مؤثر ہوں گے۔ اس معاملے پر مزید مشاورت کی ضرورت پر زور دیا گیا۔

ایک اور تجویز یہ سامنے آئی کہ ٹھیکیداروں کی روکی گئی رقوم کو ایسے اکاؤنٹس میں رکھا جائے جہاں ان پر منافع حاصل ہو سکے، اور ذمہ داری کی مقررہ مدت مکمل ہونے پر اصل رقم کے ساتھ حاصل شدہ منافع بھی واپس کیا جائے۔ تعمیراتی صنعت کے نمائندوں نے بڑے منصوبوں میں تنازعات کو عدالتی یا طویل ثالثی مراحل تک پہنچنے سے پہلے حل کرنے کے لیے ڈسپیوٹ اوائڈنس بورڈز کے استعمال کی بھی تجویز دی۔ رپورٹ کے مطابق صنعت نے 20 ارب روپے یا اس سے زائد مالیت کے منصوبوں کے لیے ایک حد تجویز کی، جبکہ حکومت نے اس سے کم حد پر بھی مشاورت کی ہدایت کی۔

یہ تجاویز ابھی پالیسی اور قواعد سازی کے مرحلے میں ہیں، اس لیے انہیں نافذ شدہ قانون یا حتمی ضابطہ نہیں سمجھا جا سکتا۔ تاہم اگر یہ نظام نافذ ہوتا ہے تو سرکاری منصوبوں کے ٹھیکیداروں، پروکیورمنٹ اداروں اور منصوبہ جاتی اخراجات پر براہ راست اثر پڑ سکتا ہے۔ حکومت کا بیان کردہ مقصد تعمیراتی معیار، منصوبوں کی پائیداری، تنازعات کے تیز حل اور عوامی وسائل کے بہتر استعمال کو یقینی بنانا ہے۔