اسلام آباد: وفاقی حکومت نے 29 اکتوبر کے لیے پیٹرول اور ہائی اسپیڈ ڈیزل کی قیمتوں میں بالترتیب 1.85 روپے اور 1.75 روپے فی لیٹر اضافہ کر دیا ہے۔ پیٹرولیم ڈویژن کے نوٹیفکیشن کے مطابق نئی قیمتوں کے بعد پیٹرول 377.91 روپے فی لیٹر جبکہ ہائی اسپیڈ ڈیزل 399.82 روپے فی لیٹر میں دستیاب ہوگا۔
یہ تبدیلی حکومت کے نئے روزانہ قیمتوں کے طریقہ کار کے تحت کی گئی ہے، جس میں عالمی منڈی اور دیگر متعلقہ عوامل کی بنیاد پر پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کا زیادہ تواتر سے جائزہ لیا جا رہا ہے۔ ایک روز قبل حکومت نے 28 اکتوبر کے لیے پیٹرول کی قیمت میں 3.19 روپے فی لیٹر کمی کی تھی، جبکہ ہائی اسپیڈ ڈیزل کی قیمت 2.25 روپے فی لیٹر بڑھائی گئی تھی۔ اس طرح تازہ نوٹیفکیشن پچھلے دن کی قیمتوں پر ایک نئی یومیہ نظرثانی ہے۔
حکومت نے جولائی میں روزانہ قیمتوں کے نظام کا اعلان کیا تھا، جس نے اس سے پہلے استعمال ہونے والے ہفتہ وار جائزے کی جگہ لی۔ اس تبدیلی کا پس منظر عالمی تیل منڈی میں شدید اتار چڑھاؤ اور مشرق وسطیٰ کی کشیدگی سے پیدا ہونے والے رسد کے خدشات بتائے گئے تھے۔ پاکستان اپنی پٹرولیم ضروریات کا بڑا حصہ درآمد کرتا ہے، اس لیے خام تیل کی عالمی قیمت، مال برداری اور شرح مبادلہ میں تبدیلی مقامی قیمتوں پر تیزی سے اثر ڈال سکتی ہے۔
عالمی منڈی میں بدھ کو خام تیل کی قیمتوں میں تقریباً دو فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔ رپورٹ کے مطابق یمن میں جاری لڑائی اور سعودی عرب میں ایک ریفائنری پر حملے کے بعد مزید رسد میں خلل کے خدشات بڑھے۔ برینٹ خام تیل 115 ڈالر فی بیرل سے اوپر جبکہ امریکی ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ 102 ڈالر فی بیرل سے زیادہ کی سطح پر پہنچا۔
حکومت نے کم آمدنی والے صارفین کے لیے الگ فیول ریلیف اسکیم بھی متعارف کرا رکھی ہے جس میں موٹر سائیکل، تین پہیوں والی گاڑیوں اور 800 سی سی تک کی کاروں کے اہل صارفین کو محدود مقدار میں پیٹرول پر رعایت دینے کا منصوبہ شامل ہے۔ تاہم 29 اکتوبر کی عمومی خوردہ قیمتوں کا نوٹیفکیشن ملک بھر کے معمول کے صارفین کے لیے بنیادی سرکاری قیمت مقرر کرتا ہے۔
قیمتوں میں یہ اضافہ کسی طویل مدت کی مقررہ شرح نہیں، کیونکہ روزانہ جائزے کے نظام میں اگلی نظرثانی عالمی اور مقامی عوامل کے مطابق نئی تبدیلی لا سکتی ہے۔

