پاکستان آٹوموٹیو مینوفیکچررز ایسوسی ایشن نے حکومت سے استعمال شدہ گاڑیوں کی گفٹ اسکیم کا فوری جائزہ لینے کا مطالبہ کیا ہے۔ ایسوسی ایشن کا مؤقف ہے کہ اسکیم کے مبینہ تجارتی استعمال سے مقامی گاڑی سازی، روزگار اور مستقبل کی سرمایہ کاری متاثر ہوسکتی ہے۔ یہ دعوے پاما کی جانب سے حکومت کو لکھے گئے خط میں کیے گئے ہیں اور انہیں ایسوسی ایشن کے مؤقف کے طور پر دیکھا جانا چاہیے۔

پاما کے ڈائریکٹر جنرل رضی الرحمٰن نے وزیراعظم کے مشیر برائے صنعت و پیداوار ہارون اختر خان کو لکھے گئے خط میں کہا کہ گفٹ اسکیم کے تحت استعمال شدہ گاڑیوں کی درآمد مئی 2026 میں صرف سات یونٹس سے بڑھ کر جون میں 806، جولائی میں 1,876، اگست میں 1,406 اور ستمبر میں 2,238 یونٹس تک پہنچ گئی۔

ایسوسی ایشن کے مطابق ستمبر میں استعمال شدہ گاڑیوں کی مجموعی درآمد کا تقریباً 98 فیصد گفٹ اسکیم کے ذریعے آیا، جبکہ Transfer of Residence اسکیم کے تحت درآمد نہایت محدود رہی۔ پاما نے کہا کہ چند ماہ میں درآمدی طریقہ کار کے اس تیز بدلاؤ سے یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ آیا اسکیم اپنے اصل مقصد، یعنی بیرون ملک پاکستانیوں کو سہولت دینے، تک محدود ہے یا نہیں۔

پاما نے واضح کیا کہ وہ بیرون ملک پاکستانیوں کے لیے حقیقی سہولت کی حمایت کرتی ہے، تاہم اس نے SRO 61(I)/2026 کے تحت سرٹیفکیشن، تصدیق اور نگرانی کے نظام کا جامع جائزہ لینے کی درخواست کی ہے۔ ایسوسی ایشن نے الزام لگایا کہ ذاتی استعمال کے لیے بنائی گئی سہولت ممکنہ طور پر تجارتی گاڑیوں کی درآمد کے لیے استعمال ہو رہی ہے؛ اس الزام کی حکومتی تحقیقات یا حتمی سرکاری نتیجہ ابھی سامنے نہیں آیا۔

پاما کے مطابق پاکستان کی آٹو صنعت مقامی مینوفیکچرنگ میں ایک ٹریلین روپے سے زیادہ سرمایہ کاری کرچکی ہے اور کئی گاڑی کیٹیگریز میں مقامی پرزہ جات کا حصہ تقریباً 60 فیصد تک پہنچا ہے۔ تنظیم نے حالیہ ٹیرف اصلاحات اور استعمال شدہ مکمل تیار گاڑیوں پر depreciation کی پالیسی پر بھی تحفظات ظاہر کیے۔

حکومت کی جانب سے پاما کے مطالبات پر حتمی ردعمل یا پالیسی تبدیلی کا اعلان ابھی نہیں ہوا۔ کسی بھی ممکنہ اصلاح میں بیرون ملک پاکستانیوں کی سہولت، صارفین کے انتخاب، درآمدی نگرانی اور مقامی صنعت کے تحفظ کے درمیان توازن بنیادی پالیسی سوال ہوگا۔