واشنگٹن: عالمی بینک نے کہا ہے کہ مشرق وسطیٰ کی جنگ، بحری مال برداری میں خلل، بحیرہ اسود میں اناج کی ترسیل کے مسائل اور محفوظ سرمایہ کاری کے اثاثوں کی بلند طلب کے باعث 2026 میں عالمی اجناس کی قیمتیں مجموعی طور پر 23 فیصد بڑھنے کی سمت میں ہیں۔ یہ اندازہ بینک کی تازہ کموڈٹی مارکیٹس آؤٹ لک رپورٹ میں پیش کیا گیا ہے۔

رپورٹ کے مطابق تیل، قدرتی گیس، خوراک اور دھاتوں کی قیمتوں میں رواں سال نمایاں اضافہ ہوا ہے۔ عالمی بینک نے خبردار کیا کہ اگر مشرق وسطیٰ میں تنازع مزید شدت اختیار کرتا ہے یا روسی تیل کے بنیادی ڈھانچے کو نقصان جاری رہتا ہے تو اجناس کی منڈیوں پر دباؤ مزید بڑھ سکتا ہے۔ دوسری جانب بنیادی پیش گوئی میں 2027 کے دوران مجموعی اجناس کی قیمتوں میں تقریباً 7 فیصد کمی متوقع ہے۔

بینک کے نائب چیف اکانومسٹ ایہان کوسے کے مطابق متعدد بڑے جھٹکے بیک وقت کموڈٹی مارکیٹس کو متاثر کر رہے ہیں۔ بلند توانائی لاگت اور تجارتی رکاوٹیں وسیع پیمانے پر قیمتیں بڑھا رہی ہیں، جس سے مہنگائی، غذائی عدم تحفظ اور معاشی نمو کے لیے خطرات پیدا ہو سکتے ہیں۔ رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا کہ عالمی تیل کے ذخائر جنگ کے دوران کم ہوئے ہیں اور 2026 میں عالمی تیل کی رسد 5.2 فیصد گھٹنے کی توقع ہے، جو 2020 کی عالمی کساد بازاری کو چھوڑ کر چار دہائیوں میں سب سے بڑی کمی ہوگی۔

توانائی کی عالمی قیمتیں 2026 میں 32 فیصد بڑھ کر 2022 کے بعد بلند ترین سطح تک پہنچنے کی سمت میں ہیں۔ برینٹ خام تیل کی سالانہ اوسط قیمت 92 ڈالر فی بیرل رہنے کی پیش گوئی کی گئی ہے۔ خوراکی اجناس کی قیمتیں 2026 میں 10 فیصد سے کچھ زیادہ بڑھنے اور 2027 میں مزید 7 فیصد سے زائد اضافے کی توقع ہے، جس کی ایک وجہ بحیرہ اسود میں اناج کی ترسیل میں رکاوٹیں بتائی گئی ہیں۔

رپورٹ میں ایک منفی منظرنامہ بھی پیش کیا گیا ہے جس میں شدید ال نینو، بحیرہ اسود کی مزید رکاوٹیں، مشرق وسطیٰ میں جنگ کی شدت اور روسی تیل کے ڈھانچے کو مسلسل نقصان شامل ہو۔ ایسے حالات میں خوراک کی قیمتیں بنیادی اندازے سے 12 فیصد زیادہ ہو سکتی ہیں۔ یہ ایک خطراتی منظرنامہ ہے، حتمی پیش گوئی نہیں۔

عالمی بینک کے مطابق دھاتوں کی قیمتیں 2026 میں 25 فیصد اور قیمتی دھاتوں کی قیمتیں 40 فیصد بڑھنے کی توقع ہے۔ پاکستان جیسے توانائی اور متعدد خام اشیا کے درآمد کنندہ ممالک کے لیے عالمی اجناس کے نرخ درآمدی لاگت اور مہنگائی پر اثر انداز ہو سکتے ہیں، تاہم پاکستان پر مخصوص اثر کا تعین مقامی شرح مبادلہ، درآمدی حجم، ٹیکس اور حکومتی پالیسی سمیت کئی عوامل سے ہوگا۔