اسلام آباد: وفاقی حکومت نے پیٹرول اور ہائی اسپیڈ ڈیزل کی قیمتوں میں بالترتیب 1 روپے 85 پیسے اور 1 روپے 75 پیسے فی لیٹر اضافہ کر دیا ہے۔ پیٹرولیم ڈویژن کے نوٹیفکیشن کے مطابق نئی قیمتوں کے بعد پیٹرول 377 روپے 91 پیسے فی لیٹر جبکہ ہائی اسپیڈ ڈیزل 399 روپے 82 پیسے فی لیٹر فروخت ہوگا۔
نئی قیمتیں 29 اکتوبر کے لیے نافذ کی گئی ہیں۔ حکومت نے حالیہ عرصے میں عالمی تیل منڈی میں شدید اتار چڑھاؤ کے باعث پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کے جائزے کا روزانہ طریقہ کار اختیار کیا ہے، جس کے تحت بین الاقوامی قیمتوں اور دیگر متعلقہ عوامل میں تبدیلی کا اثر مقامی نرخوں پر زیادہ تیزی سے منتقل ہو سکتا ہے۔
پیٹرول کی قیمت میں تازہ اضافے سے موٹر سائیکل، رکشہ اور نجی گاڑیاں استعمال کرنے والے صارفین کے براہ راست اخراجات بڑھتے ہیں، جبکہ ہائی اسپیڈ ڈیزل کی قیمت کا اثر مال برداری، بسوں، زرعی مشینری اور مختلف تجارتی سرگرمیوں کی لاگت پر پڑ سکتا ہے۔ تاہم کسی ایک دن کی قیمت میں تبدیلی سے عمومی مہنگائی پر حتمی اثر کا تعین الگ معاشی اعداد و شمار کے بغیر نہیں کیا جا سکتا۔
ڈان کے مطابق حکومت پیٹرول پر مجموعی طور پر 114 روپے فی لیٹر کے قریب ٹیکس اور ڈیوٹیز جبکہ ڈیزل پر 100 روپے فی لیٹر کے قریب وصول کر رہی ہے۔ پیٹرولیم لیوی اور دیگر محصولات حالیہ مہینوں میں سیاسی اور معاشی بحث کا اہم موضوع رہے ہیں، خصوصاً ایسے وقت میں جب عالمی خام تیل کی قیمتیں بلند سطح پر رہی ہیں۔
ایک روز قبل جماعت اسلامی کے امیر حافظ نعیم الرحمن نے وزیراعظم شہباز شریف سے ملاقات میں پیٹرولیم لیوی ختم کرنے اور عوام کو مزید ریلیف دینے کا مطالبہ کیا تھا۔ فریقین نے حکومت اور جماعت اسلامی کی مشترکہ کمیٹی قائم کرنے پر اتفاق کیا جو موٹر سائیکل، رکشہ اور 800 سی سی تک کی گاڑیوں کے مالکان کے لیے جاری ایندھن ریلیف اسکیم میں ممکنہ توسیع کا جائزہ لے گی۔
تازہ نوٹیفکیشن کسی طویل مدت کی مستقل قیمت مقرر نہیں کرتا۔ روزانہ جائزے کے موجودہ طریقہ کار کے تحت اگلی تبدیلی عالمی منڈی، شرح مبادلہ اور حکومت کے مقرر کردہ محصولات سمیت متعلقہ عوامل کے مطابق ہو سکتی ہے۔ صارفین کے لیے 29 اکتوبر کی سرکاری شرح پیٹرول کے لیے 377.91 روپے اور ہائی اسپیڈ ڈیزل کے لیے 399.82 روپے فی لیٹر ہے۔

