کراچی: درآمدی گندم کی 51 ہزار میٹرک ٹن کھیپ بدھ 28 اکتوبر کو کراچی پورٹ پہنچ گئی۔ کراچی پورٹ ٹرسٹ کے بیان کے مطابق ایم وی گوکووا ایم نامی جہاز 51 ہزار میٹرک ٹن گندم کے ظاہر کردہ کارگو کے ساتھ دوپہر 12 بج کر 25 منٹ پر بندرگاہ پہنچا اور اسے برتھ 16 اور 17 مختص کیے گئے۔

کراچی پورٹ ٹرسٹ نے بتایا کہ ایک اور جہاز ایم وی گریٹ رینبو بھی گندم کی کھیپ کے ساتھ 3 نومبر کو پہنچنے کی توقع ہے۔ ادارے کے بیان میں دونوں جہازوں کے مجموعی ظاہر کردہ گندم کارگو کو ایک لاکھ 10 ہزار میٹرک ٹن سے زائد بتایا گیا۔ ڈان کی رپورٹ میں دوسرے جہاز کے کارگو کے عدد میں ظاہری عدم مطابقت موجود ہے، اس لیے اس رپورٹ میں اس مخصوص مقدار کو حتمی عدد کے طور پر پیش نہیں کیا جا رہا اور صرف KPT کے بیان کردہ مجموعی حجم کا حوالہ دیا گیا ہے۔

KPT کے مطابق گندم کے بڑے کارگو کی ہینڈلنگ کراچی گیٹ وے ٹرمینل ملٹی پرپز لمیٹڈ کے ذریعے کی جا رہی ہے۔ بندرگاہی ادارے کا کہنا ہے کہ ضروری اجناس کی درآمد کے لیے بلک کارگو سہولت ملکی رسد کو برقرار رکھنے میں اہم کردار ادا کرتی ہے۔

یہ کھیپ ایسے وقت پہنچی ہے جب وفاقی حکومت گندم کی دستیابی اور آٹے کی قیمتوں پر دباؤ کے حوالے سے اقدامات کر رہی ہے۔ وفاقی وزیر برائے قومی غذائی تحفظ رانا تنویر حسین نے رواں ہفتے کہا تھا کہ حکومت 60 لاکھ ٹن تک اسٹریٹجک گندم ذخائر برقرار رکھنے کا ارادہ رکھتی ہے اور صوبائی ضرورت و طلب کے مطابق درآمد کا بندوبست کیا جا سکتا ہے۔ انہوں نے حالیہ قیمتوں میں اضافے کو مصنوعی قرار دیتے ہوئے کہا تھا کہ ملک میں مناسب ذخائر موجود ہیں۔

بدھ کو نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے گندم سے متعلق اسٹیئرنگ کمیٹی کے اجلاس کی صدارت بھی کی۔ دفتر خارجہ کے مطابق اجلاس میں ملک بھر میں اناج کی دستیابی اور مقامی رسد کو مستحکم رکھنے کے لیے درآمدی منصوبوں کا جائزہ لیا گیا۔ اسحاق ڈار نے وفاقی اور صوبائی اداروں کے درمیان رابطے، مارکیٹ کی نگرانی اور آٹے کی قیمتوں میں کمی کے لیے مناسب رسد یقینی بنانے کی ہدایت کی۔

درآمدی کھیپ کی آمد فوری طور پر خوردہ آٹے کی قیمت میں کسی مخصوص کمی کی ضمانت نہیں دیتی۔ مارکیٹ قیمتوں کا انحصار مجموعی دستیابی، صوبائی اجرا، نقل و حمل، ذخیرہ اندوزی کے خلاف اقدامات اور طلب سمیت متعدد عوامل پر ہوگا۔