اسلام آباد: ورلڈ بینک نے خیبرپختونخوا ہائیڈرو پاور اینڈ رینیوایبل انرجی ڈیولپمنٹ منصوبے کے ترقیاتی اہداف کی جانب پیش رفت کو ’معتدل غیر تسلی بخش‘ قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ تقریباً 727 ملین ڈالر کے اس پروگرام کو مجموعی طور پر نمایاں خطرات درپیش ہیں۔ ڈان کے مطابق یہ درجہ بندی عالمی بینک کی تازہ عوامی دستاویز میں سامنے آئی ہے۔
عالمی بینک نے منصوبے کی مجموعی عمل درآمدی پیش رفت کو الگ پیمانے پر ’معتدل تسلی بخش‘ قرار دیا، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ بعض عملی سرگرمیوں میں بہتری آئی ہے لیکن منصوبے کے مقررہ ترقیاتی نتائج حاصل کرنے کی رفتار اب بھی تشویش کا باعث ہے۔ رپورٹ میں سیاسی و حکمرانی اور تکنیکی ڈیزائن سے متعلق خطرات کو معتدل، جبکہ میکرو اکنامک حالات، ادارہ جاتی صلاحیت، مالی انتظام اور ماحولیاتی و سماجی امور سے متعلق خطرات کو نمایاں قرار دیا گیا۔
بینک کے مطابق حکومت کی درخواست پر منصوبے کی تنظیم نو کی گئی تاکہ اس کے دائرہ کار اور فنانسنگ کو موجودہ عمل درآمدی ترجیحات سے ہم آہنگ کیا جا سکے۔ رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا کہ حالیہ عرصے میں گبرال-کالام ہائیڈرو پاور منصوبے پر پیش رفت میں تیزی آئی ہے، جہاں سول ورکس شروع ہو چکے ہیں، زمین کے حصول میں پیش رفت ہوئی ہے اور الیکٹرو مکینیکل کاموں کی خریداری کا عمل آگے بڑھا ہے۔
گبرال-کالام منصوبہ 88 میگاواٹ کا رن آف ریور ہائیڈرو پاور پلانٹ ہے، جس سے سالانہ تقریباً 339 گیگاواٹ گھنٹے بجلی پیدا کرنے کا ہدف رکھا گیا ہے۔ وسیع پروگرام میں دریائے سوات کے طاس میں مزید پن بجلی منصوبوں، ادارہ جاتی صلاحیت بڑھانے اور ہائیڈرو پاور اثاثوں کے ساتھ شمسی توانائی کے امکانات کا جائزہ بھی شامل ہے۔ منصوبے کی تکمیل کی ہدف تاریخ 30 نومبر 2027 مقرر ہے۔
رپورٹ کے مطابق قرض کے مختلف حصوں میں اب تک ادائیگی کی رفتار محدود رہی ہے۔ 200 ملین ڈالر کے مارکیٹ بیسڈ قرض میں سے تقریباً 3.95 ملین ڈالر جبکہ 240 ملین ڈالر کے رعایتی ترقیاتی قرض میں سے تقریباً 34 ملین ڈالر تقسیم ہوئے ہیں۔ یہ اعداد منصوبے کی مالی پیش رفت کی موجودہ تصویر پیش کرتے ہیں، تاہم قرض کی کم تقسیم کو اکیلے حتمی ناکامی نہیں سمجھا جا سکتا کیونکہ بڑے انفراسٹرکچر منصوبوں میں ادائیگیاں تعمیراتی مراحل اور معاہدوں سے منسلک ہوتی ہیں۔
عالمی بینک نے آئندہ توجہ بروقت عمل درآمد، مؤثر کنٹریکٹ مینجمنٹ اور ماحولیاتی و سماجی تقاضوں کی پابندی پر مرکوز رکھنے کی ضرورت بیان کی ہے۔ تازہ درجہ بندی منصوبے کی موجودہ نگرانی کا نتیجہ ہے؛ یہ منصوبے کی منسوخی یا مالی معاونت ختم کرنے کا اعلان نہیں ہے۔

