اسلام آباد: پارلیمان کی پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کے اجلاس میں نیشنل ہائی وے اتھارٹی کی منصوبہ بندی، ڈیزائن اور سڑک منصوبوں کی تکمیل سے متعلق کارکردگی زیر بحث آئی، جہاں ارکان نے متعدد شاہراہوں کی حالت اور ترقیاتی منصوبوں میں تاخیر پر تشویش ظاہر کی۔ وزارت مواصلات کے حکام نے کمیٹی کو بتایا کہ این ایچ اے کے منصوبہ بندی اور ڈیزائن ونگز کو مضبوط بنانے کے لیے اقدامات کیے جا رہے ہیں۔
اجلاس میں یہ مؤقف سامنے آیا کہ کمزور ابتدائی منصوبہ بندی بعد کے مراحل میں لاگت، مدت اور تعمیراتی معیار پر اثر انداز ہو سکتی ہے۔ کمیٹی کے ارکان نے اس بات پر زور دیا کہ قومی شاہراہوں کے بڑے منصوبوں میں ڈیزائن، فزیبلٹی، مالی بندوبست اور عملی شیڈول کو شروع ہی سے حقیقت پسندانہ بنیادوں پر تیار کیا جانا چاہیے تاکہ منصوبے بار بار نظرثانی اور تاخیر کا شکار نہ ہوں۔
وزارت کی جانب سے منصوبہ بندی اور ڈیزائن کے ادارہ جاتی ڈھانچے کو بہتر بنانے کی بات کی گئی، تاہم یہ ایک جاری انتظامی عمل ہے اور دستیاب رپورٹ میں تمام زیر بحث سڑکوں یا منصوبوں کے مسائل کے مکمل حل کی تصدیق نہیں کی گئی۔ پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کی کارروائی نگرانی اور جواب دہی کے پارلیمانی عمل کا حصہ ہے، اس لیے اجلاس میں اٹھائے گئے اعتراضات کو کسی فوجداری ذمہ داری یا حتمی مالی بے ضابطگی کے فیصلے کے طور پر نہیں دیکھا جانا چاہیے جب تک متعلقہ آڈٹ یا قانونی فورم ایسا نتیجہ نہ دے۔
این ایچ اے ملک کی بین الصوبائی اور قومی شاہراہوں کے بڑے حصے کی تعمیر، دیکھ بھال اور توسیع کی ذمہ دار ہے۔ بڑے انفراسٹرکچر منصوبوں میں تاخیر نہ صرف سرکاری اخراجات بڑھا سکتی ہے بلکہ مال برداری، مسافر سفر اور علاقائی رابطوں پر بھی اثر ڈالتی ہے۔ اسی وجہ سے کمیٹی کے ارکان نے منصوبوں کے عملی نتائج اور شاہراہوں کی زمینی حالت پر توجہ مرکوز کی۔
اجلاس کے بعد بنیادی سوال یہ ہے کہ وزارت اور این ایچ اے منصوبہ بندی اور ڈیزائن کے نظام میں اعلان کردہ بہتری کو کتنی جلدی عملی شکل دیتے ہیں اور زیر التوا یا تاخیر کا شکار منصوبوں کے لیے کیا قابل پیمائش ٹائم لائن سامنے آتی ہے۔ آئندہ پارلیمانی نگرانی اور سرکاری پیش رفت رپورٹس سے ان اقدامات کی مؤثریت کا بہتر اندازہ ہو سکے گا۔




