سندھ کے محکمہ صحت نے گزشتہ تین ہفتوں کے دوران ریبیز سے پانچ افراد کی اموات کے معاملات کی جانچ کے بعد چار ڈاکٹروں، ایک ڈسپنسر، ایک لیڈی ہیلتھ وزیٹر اور ایک مڈوائف کو معطل کر دیا ہے۔ محکمہ نے سات اسپتالوں اور طبی اداروں کے سربراہان یا ذمہ دار افسران سے وضاحت بھی طلب کی ہے۔ یہ کارروائی چیف سیکریٹری سندھ آصف حیدر شاہ کی ہدایات پر کی گئی اور اس کا مقصد ان مبینہ خامیوں کا تعین کرنا بتایا گیا ہے جو اینٹی ریبیز ویکسین مراکز سے رجوع کرنے کے باوجود مریضوں کے علاج کے دوران سامنے آئیں۔
رپورٹ کے مطابق متاثرہ افراد میں مختلف اضلاع سے تعلق رکھنے والے بالغ افراد اور بچے شامل تھے۔ حکام نے بتایا کہ ہر موت کے کیس کا الگ جائزہ لیا گیا اور علاج، ویکسین یا مریض کے انتظام کے مختلف مراحل میں موجود خلا کی نشاندہی کی گئی۔ چیف سیکریٹری نے کہا کہ کارروائی کا مقصد محض ذمہ داری عائد کرنا نہیں بلکہ نظام میں موجود کمزوریوں کو سامنے لا کر انہیں دور کرنا ہے۔
معطل کیے گئے اہلکاروں میں ٹنڈو محمد خان ضلع اور لطیف آباد کے طبی مراکز سے وابستہ ڈاکٹر اور دیگر طبی عملہ شامل ہے۔ دوسری جانب لیاقت یونیورسٹی اسپتال حیدرآباد، ٹنڈو الہیار کے ضلعی اسپتال، شاہدادپور انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز اور دیگر متعلقہ مراکز کے ذمہ دار افسران سے وضاحت مانگی گئی ہے۔ یہ انتظامی کارروائی ہے؛ اس مرحلے پر معطلی یا وضاحت طلب کیے جانے کو کسی فرد کے خلاف حتمی قصور یا قانونی ذمہ داری کا فیصلہ نہیں سمجھا جا سکتا۔
صوبائی انتظامیہ نے سندھ میں قائم 278 اینٹی ریبیز ویکسین یونٹس کی نگرانی سخت کرنے، دستیاب ویکسین اور علاج کے طریقہ کار کا آڈٹ کرنے اور کیسز کی مرکزی سطح پر نگرانی کے لیے ڈیش بورڈ استعمال کرنے کی ہدایت کی ہے۔ حکام کے مطابق کتے کے کاٹنے کے بعد علاج میں تاخیر، نامکمل ویکسینیشن یا مطلوبہ طبی پروٹوکول پر عمل نہ ہونے جیسے عوامل کو ہر کیس میں الگ الگ جانچا جائے گا۔
صحت حکام کے لیے یہ واقعہ اس لیے بھی اہم ہے کہ ریبیز علامات ظاہر ہونے کے بعد تقریباً ہمیشہ جان لیوا بیماری بن جاتی ہے، جبکہ بروقت اور درست پوسٹ ایکسپوژر علاج سے اس کی روک تھام ممکن ہوتی ہے۔ موجودہ انکوائری کا مرکزی سوال یہ ہے کہ متاثرہ مریضوں کے طبی سفر میں کہاں رکاوٹ یا کوتاہی ہوئی اور صوبائی نظام میں ایسی خامیوں کو دوبارہ ہونے سے کیسے روکا جا سکتا ہے۔




