برمنگھم: انگلینڈ کے خلاف تین ٹیسٹ میچوں کی سیریز کے تیسرے اور آخری میچ کے پہلے روز پاکستان کی ٹیم ایجبسٹن میں اپنی پہلی اننگز میں صرف 133 رنز پر آؤٹ ہوگئی۔ میزبان ٹیم کے تیز گیند بازوں نے ابر آلود موسم اور مددگار پچ کا بھرپور فائدہ اٹھایا اور پاکستانی اننگز 34 اوورز کے اندر سمیٹ دی۔
پاکستان پہلے ہی سیریز میں 0-2 سے پیچھے ہے اور لارڈز میں دوسرے ٹیسٹ کی 194 رنز کی شکست کے بعد ٹیم اور کوچنگ اسٹاف میں بڑے پیمانے پر تبدیلیاں کی گئی تھیں۔ تیسرے ٹیسٹ کیلئے پاکستان نے چار تبدیلیاں کیں اور تین کھلاڑیوں کو ڈیبیو کرایا، تاہم بیٹنگ کی مشکلات برقرار رہیں۔ اس دورے میں پاکستان مسلسل پانچ ٹیسٹ اننگز میں 200 رنز تک نہیں پہنچ سکا۔
انگلینڈ کے کپتان جو روٹ نے ٹاس جیت کر حالات کو دیکھتے ہوئے پہلے بولنگ کا فیصلہ کیا۔ اولی رابنسن نے 15 رنز دے کر تین اور جوفرا آرچر نے 25 رنز دے کر تین وکٹیں حاصل کیں۔ جوش ٹونگ نے 42 رنز کے عوض چار کھلاڑی آؤٹ کیے اور پاکستانی مڈل اور لوئر آرڈر کو سنبھلنے کا موقع نہیں دیا۔
پاکستان کی جانب سے سعود شکیل نے سب سے زیادہ 43 رنز بنائے۔ محمد عباس نے آخری نمبر پر 21 رنز کی مزاحمتی اننگز کھیلی۔ اوپنر صائم ایوب صفر پر آؤٹ ہوئے، جبکہ کپتان بابر اعظم صرف سات رنز بنا سکے اور ٹونگ کی اندر آتی گیند پر بولڈ ہوئے۔ ابتدائی نقصان اتنا شدید تھا کہ پاکستان دس اوورز کے اندر 26 رنز پر چار وکٹیں گنوا چکا تھا۔
غازی غوری، محمد عمران اور رضاؤ اللہ نے اس میچ میں ٹیسٹ ڈیبیو کیا۔ غوری چار اور عمران پانچ رنز بنا سکے، جبکہ رضاؤ اللہ لنچ کے بعد پہلی ہی گیند پر آؤٹ ہوئے۔ پاکستان کی تازہ بیٹنگ ناکامی ٹیم کیلئے سیریز میں واپسی کی کوشش کو مزید مشکل بناتی ہے، تاہم میچ کا حتمی نتیجہ ابھی طے نہیں ہوا اور 133 رنز پر آؤٹ ہونا صرف پاکستان کی پہلی اننگز کا نتیجہ ہے، پورے ٹیسٹ کا نہیں۔




