اسلام آباد: وفاقی حکومت نے بجلی کے شعبے میں بڑھتے گردشی قرضے کو کم کرنے کے لیے 930 ارب روپے کی اسلامی فنانسنگ ٹرانزیکشن مکمل کی ہے۔ ایکسپریس ٹریبیون کے مطابق سینٹرل پاور پرچیزنگ ایجنسی گارنٹی (سی پی پی اے-جی) کے حکام نے نیشنل الیکٹرک پاور ریگولیٹری اتھارٹی کی عوامی سماعت کے دوران بتایا کہ شریعہ کے مطابق مالی انتظام کے تحت رقم کا بندوبست اور متعلقہ سیٹلمنٹس مکمل کیے گئے ہیں۔
سی پی پی اے-جی نے اسے پاکستان کی اب تک کی سب سے بڑی اسلامی فنانسنگ ٹرانزیکشن قرار دیا اور کہا کہ اس سے حکومت کے گردشی قرضے میں کمی کے مقاصد کو اہم مدد ملی۔ یہ دعویٰ ادارے کے حکام کی نیپرا سماعت میں دی گئی معلومات پر مبنی ہے۔ دستیاب رپورٹ میں اس فنانسنگ کے تمام بینکوں، ہر سہولت کی انفرادی شرائط، مدت اور مجموعی مالی لاگت کی مکمل تفصیل شامل نہیں، اس لیے ان پہلوؤں پر مزید سرکاری دستاویزات کے بغیر قیاس نہیں کیا جا سکتا۔
گردشی قرضہ پاکستان کے بجلی کے شعبے کا ایک دیرینہ مالی مسئلہ ہے۔ بجلی کی پیداواری لاگت، وصولیوں، سبسڈی، لائن لاسز، ٹیرف اور سرکاری ادائیگیوں کے درمیان فرق کے باعث پاور سیکٹر کی مختلف کمپنیوں اور اداروں پر واجبات جمع ہوتے رہے ہیں۔ بڑے مالی انتظامات کے ذریعے ان واجبات کے ایک حصے کو منظم یا ادا کیا جا سکتا ہے، تاہم پائیدار کمی کے لیے شعبے کی بنیادی آمدن اور اخراجات میں توازن بھی ضروری رہتا ہے۔
نیپرا سماعت میں سی پی پی اے-جی نے ریگولیٹر سے یہ اجازت بھی مانگی کہ کمپنی اپنی ملٹی ایئر ٹیرف درخواست فوری طور پر جمع کرانے کے بجائے اگلے مالی سال میں دائر کرے۔ ادارے نے 930 ارب روپے کے مالی انتظام اور سیٹلمنٹس کو اس درخواست کے پس منظر میں اپنی حالیہ مالی کارروائیوں کا حصہ بتایا۔
حکومت کی جانب سے اسلامی مالیاتی ذرائع کا استعمال پاکستان میں سکوک اور شریعہ کمپلائنٹ بینکاری کے بڑھتے کردار کے مطابق ہے۔ تاہم 930 ارب روپے کی فنانسنگ کو گردشی قرضے کے پورے مسئلے کے خاتمے کے طور پر نہیں دیکھا جا سکتا۔ اس کے حتمی اثر کا اندازہ اس بات سے ہوگا کہ واجبات کا مجموعی حجم کس رفتار سے کم ہوتا ہے، نئی ادائیگیوں کا بوجھ کیسے منظم کیا جاتا ہے اور بجلی کے شعبے میں وصولیوں، نقصانات اور ٹیرف سے متعلق اصلاحات کس حد تک مؤثر ثابت ہوتی ہیں۔

