اسلام آباد: وفاقی وزیر اطلاعات عطا اللہ تارڑ نے کہا ہے کہ پاکستان نے افغانستان سے ہونے والی حالیہ ڈرون دراندازی کے جواب میں افغانستان کے اندر 10 مقامات پر فضائی اور ڈرون کارروائیاں کی ہیں۔ وزیر اطلاعات کے مطابق ان مقامات کو ڈرونز کی لانچنگ اور ذخیرہ کرنے کے لیے استعمال کیا جا رہا تھا۔

عطا اللہ تارڑ نے اپنے بیان میں کہا کہ پاکستان نے یہ کارروائی اپنے دفاع کے حق کے تحت کی اور حملوں کو ایسے فوجی اہداف تک محدود رکھا گیا جو پاکستان کے خلاف مبینہ ڈرون حملوں سے براہ راست منسلک تھے۔ ان کے مطابق کارروائی دانستہ، نپی تلی اور متناسب نوعیت کی تھی۔

وزیر اطلاعات نے ایک روز قبل پاکستانی فضائی حدود میں آنے والے ڈرونز کو ملک کی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کی خلاف ورزی قرار دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ پاکستان کے فضائی دفاعی نظام نے داخل ہونے والے ڈرونز کو شناخت، ٹریک اور ناکارہ بنا دیا تھا اور وہ اپنے مبینہ اہداف تک نہیں پہنچ سکے۔

انہوں نے یہ بھی کہا کہ اسلام آباد ماضی میں افغان طالبان حکام کے سامنے افغانستان کی سرزمین سے سرگرم عسکریت پسند عناصر اور ان کے مبینہ ٹھکانوں کے بارے میں اپنے تحفظات اٹھاتا رہا ہے۔ وزیر اطلاعات کے مطابق پاکستان ایسے حملوں کو برداشت نہیں کرے گا جو افغان سرزمین سے پاکستان کے خلاف کیے جائیں۔

یہ پیش رفت پاکستان اور افغانستان کے درمیان پہلے سے موجود سکیورٹی کشیدگی کے دوران سامنے آئی ہے۔ پاکستانی حکومت کی جانب سے بیان کردہ کارروائی کے مقام، اہداف اور نقصانات کے بارے میں آزادانہ تفصیلات فوری طور پر دستیاب نہیں تھیں، اس لیے حملوں کے عملی اثرات سے متعلق دعووں کی آزادانہ تصدیق نہیں کی جا سکی۔ خبر میں کارروائی کی نوعیت اور وجہ سے متعلق تفصیلات پاکستانی وزیر اطلاعات کے بیان پر مبنی ہیں۔

ڈان اور جیو نیوز نے 24 ستمبر کو وزیر اطلاعات کے بیان کی بنیاد پر رپورٹ کیا کہ پاکستان نے افغانستان میں 10 مقامات کو نشانہ بنایا۔ دونوں رپورٹس کے مطابق پاکستانی مؤقف یہ ہے کہ کارروائی حالیہ ڈرون حملوں کے جواب میں کی گئی اور اس کا دائرہ شناخت شدہ فوجی مقامات تک محدود رکھا گیا۔