اسلام آباد میں زرعی برآمدات سے متعلق اسٹریٹجک ڈائیلاگ کے تیسرے اجلاس میں وفاقی وزیر منصوبہ بندی احسن اقبال نے حکومت اور نجی شعبے کو اعلیٰ قدر کی زرعی مصنوعات کے لیے مشترکہ عملی روڈمیپ تیار کرنے کی ہدایت کی ہے۔ سرکاری بیان کے مطابق مقصد خام اجناس کی برآمد پر انحصار کم کرکے پراسیسنگ، معیار، سرٹیفکیشن، ٹریس ایبلٹی اور برانڈنگ کے ذریعے عالمی منڈیوں میں زیادہ قدر حاصل کرنا ہے۔ اجلاس میں وفاقی و صوبائی اداروں، جامعات، تجارتی انجمنوں، سرٹیفکیشن اداروں، کسانوں اور گوشت، پولٹری، ڈیری، چاول، کھجور، باغبانی، زیتون اور نامیاتی پیداوار کے برآمد کنندگان نے شرکت کی۔

وزیر منصوبہ بندی نے کہا کہ زراعت ملکی مجموعی پیداوار کے قریب ایک چوتھائی حصے اور تقریباً 37 فیصد افرادی قوت سے منسلک ہونے کے باوجود اپنے حجم کے تناسب سے برآمدات میں محدود حصہ رکھتی ہے۔ انہوں نے ’’اڑان پاکستان‘‘ کے تحت 2035 تک ایک ٹریلین ڈالر کی معیشت اور 100 ارب ڈالر سے زیادہ برآمدات کے حکومتی ہدف کا حوالہ دیا۔ یہ اعداد پالیسی اہداف ہیں، حتمی نتائج نہیں، اور ان کے حصول کے لیے وزارت نے پالیسی تسلسل، نجی سرمایہ کاری اور شعبہ وار عملی فیصلوں کو ضروری قرار دیا ہے۔

اجلاس میں پیش کیے گئے سرکاری اعداد کے مطابق مالی سال 2026 میں پاکستان کی غذائی برآمدات 5.02 ارب ڈالر رہیں، جبکہ غذائی درآمدات کا بل 9.15 ارب ڈالر تھا۔ برآمدی کمی کا بڑا حصہ خام نوعیت کے چاول اور چینی سے منسلک بتایا گیا، تاہم گوشت، مچھلی اور پھلوں کی برآمد میں سال کے دوران اضافہ ہوا۔ جولائی 2026 میں غذائی برآمدات مجموعی طور پر 2.5 فیصد، چاول 19 فیصد اور گوشت 16 فیصد بڑھنے کی اطلاع دی گئی۔ یہ شرحیں ایک ماہ یا مخصوص تقابلی مدت کی سرکاری تصویر ہیں اور پورے مالی سال کا نتیجہ نہیں سمجھی جانی چاہئیں۔

حکومت نے برآمدی مالیات اور ضابطہ جاتی اصلاحات سے متعلق متعدد اقدامات بھی بیان کیے۔ وزیراعظم کے رابطہ کار برائے تجارت و صنعت کے مطابق ایکسپورٹ امپورٹ بینک کے برآمدی فنانس پول کو 2026 سے 2028 کے دوران ایک ٹریلین روپے سے بڑھا کر دو ٹریلین روپے کرنے، اس تک رسائی کی ماہانہ نگرانی اور چھوٹے و درمیانے کاروباروں کے لیے الگ فنانس ونڈو کی تیاری پر کام جاری ہے۔ قومی ٹیرف پالیسی کے دوسرے سال میں اضافی کسٹم اور ریگولیٹری ڈیوٹیز بتدریج کم کرنے کا ذکر بھی کیا گیا۔ قومی کمپلائنس اتھارٹی کو تین ماہ میں فعال کرنے کا ہدف دیا گیا ہے، تاہم اس کی عملی تشکیل اور اختیارات متعلقہ سرکاری کارروائی کے بعد واضح ہوں گے۔

شرکا نے حلال گوشت اور پولٹری، اعلیٰ معیار کی باغبانی، برانڈڈ باسمتی، پراسیس شدہ خوراک، کھجور، خوردنی تیل اور نامیاتی یا ماحول دوست پیداوار کو اہم مواقع قرار دیا۔ حلال میٹ پالیسی کے تحت 2028 تک 700 ملین ڈالر کا ہدف زیر بحث آیا۔ وزارت قومی غذائی تحفظ نے بتایا کہ مویشیوں کی افزائش کی پالیسی، اینیمل ہیلتھ بل اور 7.35 ارب روپے کا ٹریس ایبلٹی پروگرام موجود ہیں، لیکن ان کے لیے مالی وسائل اور صوبائی سطح پر اختیار کیے جانے کی ضرورت باقی ہے۔

صنعت اور جامعات نے پراسیس شدہ اور پیک شدہ گوشت پر ٹیکس فرق ختم کرنے، مویشیوں میں بیماریوں کے کنٹرول اور نسل بہتر بنانے، الیکٹرانک ویئرہاؤس رسیدی نظام کے تحفظ، معیاری چاول کی نگرانی، مقامی تیل دار بیجوں کے ٹیرف کا جائزہ، اعلیٰ پیداوار والی برآمدی پھل اقسام، قومی نامیاتی معیارات اور کم لاگت گروپ سرٹیفکیشن کی تجاویز دیں۔ یہ تجاویز ابھی فیصلے نہیں ہیں؛ وزیر منصوبہ بندی نے ہدایت کی کہ انہیں متعلقہ وزارتوں کے ذمہ اقدامات کی شکل میں مرتب کیا جائے۔

احسن اقبال نے تین ماہ بعد دوبارہ اجلاس بلا کر پیش رفت جانچنے کی ہدایت دی۔ اس مرحلے پر تصدیق شدہ پیش رفت مشاورتی اجلاس، سرکاری اعداد، مجوزہ اقدامات اور روڈمیپ تیار کرنے کی ہدایت ہے۔ برآمدی اہداف، مالی سہولتوں کے حجم اور نئی اتھارٹی کی مقررہ مدت میں تکمیل کا جائزہ آئندہ عملی فیصلوں، بجٹ، صوبائی تعاون اور عالمی منڈیوں کے معیار پر پورا اترنے کی صلاحیت سے ہوگا۔