اسلام آباد/کابل: پاکستان نے 21 ستمبر 2026 کو افغانستان کے سرحدی علاقوں میں فضائی کارروائیاں کیں جن کے بارے میں پاکستانی وزارت اطلاعات نے کہا کہ تین مبینہ جنگجو ٹھکانوں کو نشانہ بنایا گیا اور 28 جنگجو، جن میں خودکش حملہ آور بھی شامل تھے، مارے گئے۔ اسی روز اقوام متحدہ کے افغانستان مشن، یوناما، نے کنڑ میں فضائی حملوں کے نتیجے میں کم از کم تین شہریوں—ایک مرد، ایک خاتون اور ایک بچی—کی ہلاکت اور چار افراد کے زخمی ہونے کی تصدیق کی۔
پاکستانی وزارت اطلاعات کے مطابق اس سے پہلے خیبر پختونخوا کے کوہاٹ، ہنگو اور تھل کے اطراف انٹیلی جنس معلومات پر مبنی زمینی کارروائی کی گئی تھی، جس میں نو جنگجو مارے جانے کا دعویٰ کیا گیا۔ وزارت نے بعد ازاں کہا کہ افغانستان سے ملحق سرحدی علاقے میں تین مقامات پر فضائی حملے کیے گئے، جن میں ایک ایسا مرکز بھی شامل تھا جسے پاکستانی حکام نے خودکش حملہ آوروں کی تربیت گاہ قرار دیا۔ پاکستانی حکام نے یہ بھی کہا کہ حملوں میں اسلحہ اور گولہ بارود کے ذخائر تباہ ہوئے اور شہری نقصان سے بچنے کے لیے احتیاطی اقدامات کیے گئے۔
دوسری جانب افغان طالبان حکومت نے کہا کہ حملے افغانستان کے کنڑ اور پکتیکا صوبوں میں ہوئے۔ افغان حکام کے مطابق کنڑ کے نورگل ضلع میں ایک گھر کو نشانہ بننے سے ایک ہی خاندان کے تین افراد ہلاک اور چار زخمی ہوئے، جبکہ پکتیکا کے برمل ضلع میں ایک دکان اور ایک خالی مکان کو نقصان پہنچا۔ طالبان حکومت نے حملوں کو افغانستان کی خودمختاری کی خلاف ورزی قرار دیتے ہوئے پاکستان کے ناظم الامور کو طلب کیا اور احتجاج ریکارڈ کرایا۔
رائٹرز اور ایسوسی ایٹڈ پریس کے مطابق پاکستانی حکومت کے 28 جنگجو مارنے کے دعوے کی آزادانہ تصدیق فوری طور پر ممکن نہیں تھی۔ البتہ یوناما نے کنڑ میں تین شہری ہلاکتوں اور چار زخمیوں کی تصدیق کرتے ہوئے تمام فریقوں سے بین الاقوامی انسانی قانون کی پابندی اور شہریوں کے تحفظ کا مطالبہ کیا۔
یہ کارروائیاں پاکستان میں حالیہ مہلک حملوں کے بعد سامنے آئیں، جن میں کوہاٹ میں پولیس کمپاؤنڈ اور مسجد پر حملہ اور ہنگو میں سکیورٹی اہلکاروں کے خلاف کارروائی شامل تھیں۔ اسلام آباد طویل عرصے سے کابل پر الزام عائد کرتا آیا ہے کہ پاکستانی طالبان اور اتحادی گروہ افغان سرزمین سے پاکستان میں حملے کرتے ہیں۔ افغان طالبان حکومت اس الزام کی تردید کرتی ہے اور کہتی ہے کہ پاکستان کے اندر ہونے والی بدامنی کی ذمہ داری افغانستان پر نہیں ڈالی جا سکتی۔
تازہ فضائی حملوں نے دونوں ہمسایہ ممالک کے درمیان پہلے سے کشیدہ تعلقات میں ایک اور سنگین مرحلہ پیدا کیا ہے۔ پاکستانی مؤقف، افغان حکومت کے اعتراضات اور اقوام متحدہ کی شہری ہلاکتوں کی تصدیق ایک دوسرے سے مختلف پہلو پیش کرتی ہیں، اس لیے مجموعی جانی نقصان اور نشانہ بننے والے تمام افراد کی شناخت کے بارے میں حتمی تصویر مزید آزادانہ شواہد سامنے آنے پر واضح ہو گی۔
