اسلام آباد: پاکستان نے ریونیو انتظامیہ کی ڈیجیٹلائزیشن کے لیے ایشیائی ترقیاتی بینک سے 20 کروڑ ڈالر، تقریباً 57 ارب روپے، کے قرض سے منسلک منصوبے کو مشروط طور پر آگے بڑھانے کی منظوری دے دی ہے۔ سینٹرل ڈیولپمنٹ ورکنگ پارٹی کے اجلاس میں منصوبہ بندی کے وزیر احسن اقبال کی زیر صدارت Transforming and Digitalising Revenue Administration، یا TADRA، منصوبے کا جائزہ لیا گیا۔
منصوبے کا بنیادی مقصد فیڈرل بورڈ آف ریونیو کے نظام کو زیادہ ڈیجیٹل بنانا، ٹیکس دہندگان کی تعمیل بہتر کرنا، کسٹمز کلیئرنس میں شفافیت بڑھانا اور ٹیکس نیٹ کو وسیع کرنا ہے۔ ایف بی آر نے حکام کو بتایا ہے کہ منصوبے کے ذریعے ٹیکس ٹو جی ڈی پی شرح موجودہ تقریباً 11.1 فیصد سے بڑھا کر 2029 تک 13.5 فیصد کرنے میں مدد ملے گی۔
تاہم منظوری غیر مشروط نہیں ہے۔ سرکاری بیان کے مطابق احسن اقبال نے منصوبہ قومی اقتصادی کونسل کی ایگزیکٹو کمیٹی، ایکنک، کو بھیجنے کی سفارش اس شرط کے ساتھ کی کہ پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف ڈیولپمنٹ اکنامکس اس کے کاروباری ماڈل کا تفصیلی جائزہ لے۔ منصوبہ بندی کمیشن نے ماضی میں ٹیکس انتظامیہ کی اصلاحات کے لیے لیے گئے قرضوں کے نتائج اور نئی سرمایہ کاری کی ضرورت سے متعلق سوالات بھی اٹھائے ہیں۔
حکام کے سامنے یہ نکتہ رکھا گیا کہ پاکستان ٹیکس نظام کی اصلاح کے لیے ترقیاتی شراکت داروں سے پہلے ہی تقریباً 4.7 ارب ڈالر حاصل کر چکا ہے۔ اسی لیے ریونیو ڈویژن سے کہا گیا ہے کہ سابق بڑے اصلاحاتی پروگراموں کا اثر جانچا جائے اور یہ دیکھا جائے کہ ان سے محصولات، ٹیکس دہندگان کی تعداد اور ادارہ جاتی کارکردگی میں کتنی قابل پیمائش بہتری آئی۔
منصوبہ بندی کمیشن نے منصوبے کے لیے واضح نتائج، قابل پیمائش اشاریے، موجودہ نظام کا گیپ اینالیسس، ضروریات کا جائزہ، ڈیٹا سکیورٹی فریم ورک اور منصوبہ مکمل ہونے کے بعد اس کی پائیداری سے متعلق انتظامات پر بھی زور دیا۔ بیرونی تکنیکی ماہرین نے مجوزہ مصنوعی ذہانت کے ماڈل اور موجودہ ڈیجیٹل ڈھانچے سے اس کے تعلق کے بارے میں مزید وضاحت کی ضرورت کی نشاندہی کی۔
منصوبے میں ایف بی آر کے ہارڈویئر اور سافٹ ویئر کو اپ گریڈ کرنے کی تجاویز بھی شامل ہیں۔ ڈیٹا اسٹوریج کی صلاحیت بڑھانے کی ضرورت اس لیے بتائی گئی ہے کہ مختلف بڑے صنعتی شعبوں میں پیداواری لائنوں کی ویڈیو نگرانی اور پروسیسنگ سے ڈیٹا کی مقدار میں اضافہ متوقع ہے۔
اے ڈی بی قرض کی انتظامی سطح پر وابستگی پہلے موجود ہے، تاہم منصوبے کے لیے متعلقہ قومی منظوریوں اور بینک کے بورڈ کے رسمی عمل کی تکمیل ضروری ہے۔ رپورٹ کے مطابق قرض کی مدت 25 سال، پانچ سالہ رعایتی مدت اور سالانہ تقریباً 1.5 سے 2 فیصد شرح سود کے ساتھ تجویز کی گئی ہے۔




