اسلام آباد: وفاقی حکومت نے پٹرولیم مصنوعات کی تازہ قیمتوں میں اضافہ کرتے ہوئے پٹرول 5 روپے 2 پیسے اور ہائی اسپیڈ ڈیزل 5 روپے 28 پیسے فی لیٹر مہنگا کر دیا ہے۔ پٹرولیم ڈویژن کے نوٹیفکیشن کے مطابق نئی قیمتوں کا اطلاق 12 ستمبر سے ہوگا اور یہ 14 ستمبر تک نافذ رہیں گی۔

تازہ فیصلے کے بعد پٹرول کی نئی قیمت 375 روپے 82 پیسے فی لیٹر مقرر کی گئی ہے، جبکہ ہائی اسپیڈ ڈیزل 403 روپے 32 پیسے فی لیٹر فروخت ہوگا۔ سرکاری فیصلے کے مطابق قیمتوں میں یہ تبدیلی بین الاقوامی منڈی میں خام تیل اور پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کے رجحان کے پس منظر میں کی گئی ہے۔

پاکستان میں پٹرول عام طور پر نجی گاڑیوں، موٹر سائیکلوں، رکشوں اور چھوٹی ٹرانسپورٹ میں بڑے پیمانے پر استعمال ہوتا ہے، اس لیے اس کی قیمت میں تبدیلی براہ راست گھریلو اور سفری اخراجات پر اثر انداز ہوتی ہے۔ دوسری جانب ہائی اسپیڈ ڈیزل بھاری ٹرانسپورٹ، مال برداری، زرعی مشینری، بعض بجلی گھروں اور بڑے جنریٹرز میں استعمال ہونے کے باعث اشیا کی نقل و حمل اور پیداواری لاگت کے لیے اہم سمجھا جاتا ہے۔

ڈان کی رپورٹ کے مطابق حکومت پٹرول پر مجموعی طور پر 114 روپے فی لیٹر اور ڈیزل پر 100 روپے فی لیٹر ٹیکس اور ڈیوٹیز وصول کر رہی ہے۔ رپورٹ میں بتایا گیا کہ رواں سال مشرق وسطیٰ میں کشیدگی اور عالمی تیل کی رسد سے متعلق خدشات کے باعث پاکستان میں ایندھن کی قیمتوں میں نمایاں اتار چڑھاؤ دیکھا گیا ہے۔

حکومت نے جولائی میں اعلان کیا تھا کہ عالمی منڈی میں تیزی سے بدلتی قیمتوں کے باعث پٹرولیم مصنوعات کے نرخ روزانہ بنیادوں پر طے کیے جائیں گے اور اوگرا کو بین الاقوامی مارکیٹ کے رجحانات کی بنیاد پر قیمتوں کے تعین کی ذمہ داری دی جائے گی۔ اس سے قبل قیمتوں میں ہفتہ وار ردوبدل کیا جا رہا تھا۔

تازہ اضافہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب ایندھن کی بلند قیمتیں ٹرانسپورٹ اور کاروباری لاگت پر دباؤ برقرار رکھے ہوئے ہیں۔ تاہم موجودہ نوٹیفکیشن صرف مقررہ مدت کے نرخ طے کرتا ہے اور آئندہ قیمتوں کا انحصار حکومت کے اگلے فیصلے اور عالمی منڈی کی صورتحال پر ہوگا۔