اسلام آباد: پاکستان کی مسلح افواج نے 61ویں یومِ دفاع و شہدا کے موقع پر ملک کے دفاع اور قومی خودمختاری کے تحفظ کے عزم کا اعادہ کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ پاکستان کے خلاف کسی بھی جارحیت کا فوری اور فیصلہ کن جواب دیا جائے گا۔ آئی ایس پی آر سے منسوب بیان کے مطابق عسکری قیادت نے دفاعِ وطن کے لیے جانیں قربان کرنے والے شہدا اور سابق فوجیوں کو خراجِ عقیدت پیش کیا اور 6 ستمبر کو قومی اتحاد، حوصلے اور ثابت قدمی کی علامت قرار دیا۔
بیان میں چیف آف ڈیفنس فورسز اور چیف آف آرمی اسٹاف فیلڈ مارشل سید عاصم منیر سمیت عسکری قیادت کی جانب سے اس عزم کو دہرایا گیا کہ پاکستان کی مسلح افواج قومی سلامتی کے تقاضوں کو پورا کرنے کے لیے مکمل طور پر تیار ہیں۔ قیادت نے اس مؤقف کو بھی نمایاں کیا کہ پاکستان خطے میں امن، استحکام اور خوشحالی کا خواہاں ہے، تاہم دفاعی تیاری کو کمزوری نہ سمجھا جائے۔
یومِ دفاع پاکستان میں 1965 کی جنگ کے تناظر میں ہر سال 6 ستمبر کو منایا جاتا ہے، جبکہ حالیہ برسوں میں اسے یومِ شہدا کے طور پر بھی وسیع تر قومی یادگاری موقع کی شکل دی گئی ہے۔ اس موقع پر سرکاری اور عسکری تقریبات میں دفاعی خدمات انجام دینے والے اہلکاروں اور قربانیاں دینے والے خاندانوں کو خراجِ تحسین پیش کیا جاتا ہے۔
موجودہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب خطے میں سلامتی کی صورتحال اور سرحدی تناؤ سے متعلق مباحث جاری ہیں۔ عسکری قیادت نے اپنے پیغام میں کسی مخصوص ملک کے خلاف کارروائی کا اعلان نہیں کیا بلکہ عمومی طور پر پاکستان کے دفاع، خودمختاری اور علاقائی امن کے اصولوں پر زور دیا۔ اس لیے اسے کسی فوری فوجی کارروائی یا نئے آپریشن کی تصدیق کے طور پر نہیں دیکھا جانا چاہیے۔
آئی ایس پی آر کے مطابق مسلح افواج نے قوم اور ریاست کے ساتھ اپنی وابستگی برقرار رکھنے اور ملک کے دفاع کے لیے ہر ضروری ذمہ داری پوری کرنے کے عزم کا اظہار کیا۔ یومِ دفاع کے پیغام کا مرکزی نکتہ یہ رہا کہ پاکستان امن چاہتا ہے مگر اپنی سلامتی اور خودمختاری کے تحفظ کے لیے تیار ہے۔




