اسلام آباد: پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ، آئی ایس پی آر، نے کہا ہے کہ 3 سے 5 ستمبر کے دوران خیبر پختونخوا کے مختلف علاقوں میں سکیورٹی فورسز کی متعدد کارروائیوں اور جھڑپوں میں 20 سے زائد دہشت گرد مارے گئے۔ یہ تفصیلات 6 ستمبر کو جاری بیان میں سامنے آئیں، جس میں شمالی وزیرستان میں پاکستان افغانستان سرحد کے قریب دراندازی کی کوششوں اور کوہاٹ و ڈیرہ اسماعیل خان کے علاقوں میں الگ الگ مقابلوں کا ذکر کیا گیا۔
آئی ایس پی آر کے مطابق شمالی وزیرستان میں سرحدی علاقے کے قریب ایک گروہ کی نقل و حرکت کا سراغ لگایا گیا جسے فورسز نے نشانہ بنایا اور سات مبینہ دہشت گرد مارے گئے۔ فوجی بیان میں ان افراد کو "خوارج" قرار دیا گیا، جو ریاست کالعدم تحریک طالبان پاکستان سے وابستہ عناصر کے لیے استعمال کرتی ہے۔ اس دعوے کی آزادانہ طور پر فوری تصدیق ممکن نہیں تھی، اس لیے ہلاکتوں اور گروہی وابستگی کی تفصیلات فوجی بیان سے منسوب ہیں۔
بیان میں اس سے پہلے کی ایک کارروائی کا بھی حوالہ دیا گیا جس میں شمالی وزیرستان کے سرحدی علاقے سے داخل ہونے کی کوشش کرنے والے 15 دہشت گردوں کو مارنے کا دعویٰ کیا گیا تھا۔ آئی ایس پی آر کے مطابق اسی سلسلے میں مزید 10 افراد بھی ہلاک ہوئے، یوں اس مخصوص دراندازی کی کوشش سے منسلک ہلاکتوں کی مجموعی تعداد 25 بتائی گئی۔ تازہ بیان میں 3 سے 5 ستمبر کی الگ کارروائیوں کو بھی بیان کیا گیا، جن میں کوہاٹ اور ڈیرہ اسماعیل خان کے علاقوں میں چار مزید دہشت گردوں کے مارے جانے کی اطلاع دی گئی۔
آئی ایس پی آر نے الزام عائد کیا کہ سرحد پار سے ہونے والی ان کوششوں سے پاکستان کے اس موقف کو تقویت ملتی ہے کہ افغان سرزمین دہشت گردی کے لیے استعمال ہو رہی ہے اور افغان طالبان حکومت مؤثر سرحدی انتظام اور اپنی انسداد دہشت گردی ذمہ داریاں پوری نہیں کر رہی۔ یہ پاکستان کی جانب سے لگایا گیا الزام ہے؛ خبر کی اشاعت تک افغان طالبان حکومت کا تازہ جواب سامنے نہیں آیا تھا۔
فوجی بیان کے مطابق متاثرہ علاقوں میں کلیئرنس اور سرچ آپریشن جاری ہیں تاکہ کسی بھی باقی ماندہ مسلح عنصر کی موجودگی ختم کی جا سکے۔ صدر آصف علی زرداری نے بھی سکیورٹی فورسز کی کارروائیوں کو سراہا اور افغان طالبان حکومت سے مطالبہ کیا کہ اپنی سرزمین کو پاکستان کے خلاف دہشت گردی کے لیے استعمال ہونے سے روکے۔
خیبر پختونخوا میں حالیہ مہینوں کے دوران دہشت گردی کے واقعات میں اضافہ رپورٹ ہوا ہے۔ ڈان نے پاکستان انسٹی ٹیوٹ فار کانفلیکٹ اینڈ سکیورٹی اسٹڈیز کے اعدادوشمار کا حوالہ دیتے ہوئے لکھا کہ اگست میں صوبے کے مختلف حصوں، خصوصاً ضم اضلاع، میں حملوں کی تعداد بڑھی۔ تاہم تازہ کارروائیوں میں مارے جانے والے افراد کی تعداد، شناخت اور وابستگی سے متعلق بنیادی معلومات سرکاری سکیورٹی ذرائع ہی سے آئی ہیں، اس لیے انہیں اسی نسبت کے ساتھ رپورٹ کیا جا رہا ہے۔




