اسلام آباد: پاکستان کے سرکاری میڈیا نے سکیورٹی ذرائع کے حوالے سے رپورٹ کیا ہے کہ فوج نے پاک افغان سرحد کے انگور اڈہ سیکٹر میں 27 اکتوبر کی فائرنگ کے جواب میں افغان طالبان کی متعدد سرحدی پوسٹوں اور فوجی پوزیشنوں کو نشانہ بنا کر تباہ کیا۔ ریڈیو پاکستان کے مطابق کارروائی جنوبی وزیرستان اور پاراچنار سے ملحق سرحدی علاقوں میں کی گئی اور بھاری ہتھیار استعمال کیے گئے۔ رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا کہ افغان طالبان کے اہلکار اپنی بعض پوزیشنیں چھوڑ گئے۔

سرکاری ذرائع نے افغان طالبان کے متعدد اہلکاروں کے ہلاک ہونے کا بھی دعویٰ کیا ہے، تاہم اس تعداد یا جانی نقصان کی آزادانہ تصدیق دستیاب نہیں اور افغان جانب کا تازہ تفصیلی مؤقف اس رپورٹ میں شامل نہیں تھا۔ اس لیے ان دعوؤں کو پاکستانی سکیورٹی ذرائع سے منسوب معلومات کے طور پر ہی دیکھا جا رہا ہے۔ سرحدی جھڑپوں میں دونوں جانب کے دعوے بعض اوقات مختلف ہوتے ہیں اور آزادانہ رسائی محدود ہونے کے باعث فوری تصدیق مشکل رہتی ہے۔

یہ پیش رفت 27 اکتوبر کو انگور اڈہ کے قریب ہونے والی فائرنگ کے بعد سامنے آئی۔ پاکستانی حکام کے مطابق افغان علاقے سے پاکستانی سرحدی چوکیوں اور رہائشی مقامات پر اسنائپر، ہلکے اور بھاری ہتھیاروں سے فائرنگ کی گئی تھی۔ ایک مارٹر گولہ رہائشی علاقے میں گرنے سے ایک مقامی شہری جاں بحق اور ایک ہی خاندان کے پانچ افراد زخمی ہوئے تھے۔ پاکستانی فورسز نے اس وقت بھی سرحد پار متعدد پوزیشنوں، مارٹر مقامات اور دفاعی بنکروں کو جواباً نشانہ بنانے کی اطلاع دی تھی۔

افغانستان کی وزارت دفاع نے اس واقعے کے بارے میں پاکستان کو جارح قرار دینے کا مؤقف پیش کیا تھا، جسے اسلام آباد نے مسترد کرتے ہوئے جھوٹا قرار دیا۔ اس اختلاف کے باعث واقعے کی ابتدا اور سرحد پار کارروائیوں کے بعض پہلو متنازع ہیں۔ خیبر پختونخوا کے گورنر فیصل کریم کنڈی نے شہریوں پر حملے اور ملکی خودمختاری کی خلاف ورزی برداشت نہ کرنے کا بیان دیا تھا۔

انگور اڈہ پاکستان اور افغانستان کے درمیان حساس سرحدی گزرگاہوں میں شامل ہے اور مقامی آمدورفت و تجارت کے لیے بھی اہم ہے۔ حالیہ مہینوں میں پاکستان اور افغانستان کے درمیان سرحدی کشیدگی میں اضافہ ہوا ہے۔ اسلام آباد مسلسل کابل سے مطالبہ کرتا آیا ہے کہ کالعدم تحریک طالبان پاکستان سمیت ایسے گروہوں کے خلاف کارروائی کی جائے جن کے بارے میں پاکستان کا کہنا ہے کہ وہ افغان سرزمین سے حملوں کی منصوبہ بندی کرتے ہیں۔ افغان طالبان ماضی میں ان الزامات کی تردید کرتے رہے ہیں۔ تازہ سرحدی کارروائی دونوں ہمسایہ ملکوں کے درمیان پہلے سے موجود سکیورٹی اور سفارتی تناؤ میں ایک اور اضافہ ہے۔