بشکیک/اسلام آباد: پاکستان نے یکم ستمبر 2026 کو شنگھائی تعاون تنظیم، SCO، کی کونسل آف ہیڈز آف اسٹیٹ کی 2026–27 کے لیے گھومتی صدارت باضابطہ طور پر سنبھال لی ہے۔ SCO سیکریٹریٹ کے مطابق کرغزستان کی 2025–26 کی مدت 26ویں سربراہی اجلاس پر مکمل ہوئی اور ذمہ داری پاکستان کو منتقل کر دی گئی۔ پاکستان اگلے ایک سال کے دوران کونسل کی سیاسی سمت، اجلاسوں کی تیاری اور رکن ممالک کے درمیان ترجیحی ایجنڈے کی پیش رفت میں مرکزی رابطہ کردار ادا کرے گا۔

وزیراعظم شہباز شریف نے پاکستانی صدارت کا موضوع ’’تصور سے عمل تک: رابطہ، جدت اور مشترکہ خوشحالی‘‘ مقرر کیا۔ انہوں نے سربراہی اجلاس سے خطاب میں کہا کہ پاکستان علاقائی رابطہ کاری کو عملی منصوبوں، ٹیکنالوجی میں تعاون اور عوام تک معاشی فوائد پہنچانے سے جوڑنا چاہتا ہے۔ یہ صدارت خاص طور پر کونسل آف ہیڈز آف اسٹیٹ کی ہے؛ اسے SCO کے ہر ذیلی ادارے یا مستقل سیکریٹریٹ کی انتظامی سربراہی کے برابر نہیں سمجھنا چاہیے۔

پاکستان نے 2027 میں اگلے کونسل آف ہیڈز آف اسٹیٹ سربراہی اجلاس کی اسلام آباد میں میزبانی کا اعلان کیا ہے۔ قومی اسمبلی کے اسپیکر کے بیان اور دفتر خارجہ کی بریفنگ کے مطابق رکن ممالک کے رہنماؤں کو آئندہ اجلاس کے لیے پاکستان مدعو کرے گا۔ میزبان شہر اور سال کی تصدیق ہو چکی ہے، تاہم حتمی تاریخ، مکمل پروگرام اور شرکا کی فہرست بعد کے سفارتی رابطوں میں طے ہو گی۔

وزیراعظم نے اپنی صدارت کے لیے انفارمیشن ٹیکنالوجی اور مصنوعی ذہانت، توانائی، ترقی و غربت میں کمی، آفات سے نمٹنے، صحت، ثقافت اور کھیل کو ترجیحی شعبے قرار دیا۔ انہوں نے ذمہ دار اور شمولیتی مصنوعی ذہانت کے لیے SCO سطح کے خودمختار AI بنیادی ڈھانچے اور گورننس فریم ورک کی تجویز بھی دی۔ یہ پاکستانی ایکشن پلان کی تجاویز ہیں؛ ان کا تنظیمی پالیسی یا مشترکہ پروگرام بننا رکن ممالک کی مشاورت اور باقاعدہ منظوری پر منحصر ہو گا۔

پاکستان نے علاقائی آفات، پیشگی انتباہ اور امدادی رابطے کے لیے اسلام آباد میں 2026–27 کے دوران گلوبل ریزیلینس ایکسپو منعقد کرنے کی تجویز پیش کی۔ رابطہ کاری کے باب میں وزیراعظم نے چین پاکستان اقتصادی راہداری، بین العلاقائی ریلوے، سڑکوں اور توانائی منصوبوں کو SCO خطے کی منڈیوں اور بحیرۂ عرب کے درمیان ممکنہ روابط سے جوڑا۔ ان منصوبوں کی تکمیل یا نئی مالی منظوری سربراہی خطاب سے خود بخود نہیں ہوئی؛ ہر منصوبے کے اپنے معاہدے، سرمایہ کاری اور نفاذی مراحل ہوں گے۔

بشکیک اجلاس میں SCO رکن ممالک کے رہنماؤں نے 28 دستاویزات کی منظوری دی، جن میں بشکیک اعلامیہ، تنظیم کے چارٹر میں ترامیم کا پروٹوکول، ہنگامی حالات سے متاثر ملکوں کی معاونت سے متعلق بیان، اور سلامتی کے چیلنجز و منشیات کے خلاف مجوزہ مراکز کے انتظامی ضوابط شامل تھے۔ یہ فیصلے کرغز صدارت کے اختتامی اجلاس میں ہوئے، جبکہ ان پر عمل کی پیروی پاکستانی صدارت کے دوران تنظیم کے متعلقہ فورمز میں جاری رہ سکتی ہے۔

اسی اجلاس میں لاہور کو 2026–27 کے لیے SCO کا سیاحتی اور ثقافتی دارالحکومت قرار دیا گیا۔ یہ سالانہ اعزازی حیثیت پاکستان کو لاہور کے تاریخی، ثقافتی اور سیاحتی ورثے کو رکن ممالک کے سامنے پیش کرنے کا موقع دیتی ہے۔ اس designation کے تحت تقریبات اور ثقافتی تبادلوں کی عملی تفصیل وفاقی و صوبائی اداروں اور SCO کے متعلقہ طریقۂ کار سے سامنے آئے گی۔

پاکستانی صدارت ایسے وقت شروع ہوئی ہے جب تنظیم کے ایجنڈے میں سلامتی کے ساتھ تجارت، سرمایہ کاری، توانائی، ماحول، سیاحت اور نئی ٹیکنالوجی شامل ہو چکے ہیں۔ رکن ممالک کے باہمی سیاسی اختلافات اور مختلف معاشی ترجیحات کے باعث ہر تجویز پر اتفاق آسان نہیں ہوتا۔ اس لیے پاکستانی مدت کی کامیابی کا جائزہ صرف سربراہی اجلاس کی میزبانی سے نہیں بلکہ منظور شدہ مشترکہ منصوبوں، قابلِ پیمائش رابطہ کاری، وزارتی اجلاسوں اور رکن ممالک کے اتفاق سے لیا جائے گا۔

دفتر خارجہ نے کہا ہے کہ پاکستان اپنی صدارت کو عملی نتائج، مشترکہ خوشحالی اور علاقائی تعاون کی طرف لے جائے گا۔ آئندہ مہینوں میں قومی رابطہ کاروں، وزرائے خارجہ اور مختلف شعبہ جاتی فورمز کے اجلاس پاکستان کے ایجنڈے کو حتمی شکل دیں گے، جبکہ 2027 کا سربراہی اجلاس اس ایک سالہ مدت کا مرکزی اختتامی مرحلہ ہو گا۔