کراچی: پاکستان کی آٹو مارکیٹ میں مالی سال 2026-27 کے پہلے دو ماہ کے اعداد نے ایک ملی جلی تصویر پیش کی ہے۔ پاکستان آٹوموٹیو مینوفیکچررز ایسوسی ایشن (PAMA) کے تازہ اعداد کے مطابق جولائی اور اگست 2026 میں مسافر کاروں کی فروخت گزشتہ مالی سال کی اسی مدت کے مقابلے میں 80 فیصد بڑھ کر 30,933 یونٹس تک پہنچ گئی، لیکن صرف اگست کا موازنہ جولائی سے کیا جائے تو کار فروخت میں 20 فیصد کمی ریکارڈ ہوئی۔
دو ماہ کے مجموعی اعداد میں دیگر شعبوں کی کارکردگی مختلف رہی۔ جیپ اور پک اپ گاڑیوں کی فروخت سالانہ بنیاد پر 44 فیصد کم ہو کر 4,443 یونٹس رہی، جبکہ ٹرکوں کی فروخت 81 فیصد بڑھ کر 1,656 یونٹس اور بسوں کی فروخت 9 فیصد بڑھ کر 138 یونٹس رہی۔ موٹر سائیکل اور رکشہ سمیت دو اور تین پہیہ گاڑیوں کی فروخت 29 فیصد اضافے کے ساتھ 351,492 یونٹس تک پہنچی، جبکہ زرعی ٹریکٹروں کی فروخت 5 فیصد بڑھ کر 2,294 یونٹس رہی۔
آٹو ماہرین نے سالانہ بہتری کو نسبتاً بہتر معاشی حالات، مستحکم شرح سود اور گاڑیوں کی لیزنگ کے زیادہ مواقع سے جوڑا ہے۔ تاہم اگست کی ماہانہ کمی اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ ابتدائی بحالی کے باوجود صارفین اور صنعت پالیسی غیر یقینی سے متاثر ہو رہے ہیں۔ اگست میں مسافر کاروں کی پیداوار 23 فیصد اور فروخت 20 فیصد کم ہوئی، جبکہ کمرشل گاڑیوں، جیپوں اور پک اپس کی فروخت میں ماہانہ 29 فیصد کمی دیکھی گئی۔ ٹریکٹر فروخت بھی جولائی کے مقابلے میں 15 فیصد گھٹی۔
PAMA کے ڈائریکٹر جنرل رضی الرحمان نے صنعت کی موجودہ صورتحال کو پالیسی خلا سے منسلک کیا ہے۔ آٹوموٹیو انڈسٹری ڈیولپمنٹ اینڈ ایکسپورٹ پلان 2021-26 جون 2026 میں اپنی مدت مکمل کر چکا ہے، جبکہ نئے پالیسی فریم ورک پر واضح حتمی سمت نہ ہونے سے مینوفیکچررز، ڈیلرز اور خریداروں کے فیصلوں پر اثر پڑ رہا ہے۔ خاص طور پر ہائبرڈ، پلگ اِن ہائبرڈ اور دیگر نئی توانائی والی گاڑیوں کی ٹیکس پالیسی میں تبدیلیاں صنعت کے لیے اہم مسئلہ بنی ہوئی ہیں۔
سالانہ 80 فیصد اضافہ ایک کم بنیاد اور گزشتہ سال کے نسبتاً کم فروخت والے عرصے سے بھی متاثر ہو سکتا ہے، اس لیے اسے مستقل رفتار کی ضمانت نہیں سمجھا جا سکتا۔ اسی طرح ایک ماہ کی 20 فیصد کمی کو بھی طویل مدتی مندی کا قطعی ثبوت نہیں کہا جا سکتا۔ اگلے چند ماہ کے رجحانات اس بات کا بہتر اندازہ دیں گے کہ مانگ میں بحالی برقرار رہتی ہے یا ٹیکس اور آٹو پالیسی سے متعلق غیر یقینی دوبارہ فروخت پر دباؤ ڈالتی ہے۔
صنعت نے حکومت سے نئی آٹو پالیسی اور ٹیکس فریم ورک جلد واضح کرنے کا مطالبہ کیا ہے تاکہ سرمایہ کاری، مقامی پیداوار، نئی توانائی والی گاڑیوں اور صارفین کی خریداری کے فیصلوں میں موجود غیر یقینی کم ہو۔

