اسلام آباد: پاکستان نے چین کی ون چائنا پالیسی کی حمایت کے تناظر میں تائیوان سے تعلق رکھنے والی فضائی کمپنیوں کے لیے اپنی فضائی حدود بند کر دی ہے، جس کے بعد متعلقہ ایئرلائنز نے اپنے بعض بین الاقوامی روٹس تبدیل کرنا شروع کر دیے ہیں۔ بزنس ریکارڈر نے 28 اکتوبر کو بلومبرگ کے حوالے سے یہ پیش رفت رپورٹ کی۔
رپورٹ کے مطابق تائیوانی کیریئرز نے گزشتہ اختتام ہفتہ سے پاکستانی فضائی حدود سے گزرنے والی پروازوں کو متبادل راستوں پر منتقل کرنا شروع کیا۔ فضائی حدود کی پابندی سے طویل فاصلے کی بعض پروازوں کے دورانیے، ایندھن کے استعمال اور آپریشنل منصوبہ بندی پر اثر پڑ سکتا ہے، تاہم ہر روٹ پر اثر اس کے اصل فلائٹ پلان اور دستیاب متبادل فضائی راستوں پر منحصر ہوگا۔
پاکستان طویل عرصے سے عوامی جمہوریہ چین کو چین کی واحد قانونی حکومت تسلیم کرتا اور ون چائنا پالیسی کی حمایت کرتا آیا ہے۔ تائیوان اپنی منتخب حکومت اور الگ انتظامی نظام رکھتا ہے، جبکہ بیجنگ اسے چین کا حصہ قرار دیتا ہے۔ پاکستان اور تائیوان کے درمیان رسمی سفارتی تعلقات نہیں ہیں۔
بزنس ریکارڈر کی رپورٹ نے اس اقدام کو اپنی نوعیت کا غیر معمولی فیصلہ قرار دیا ہے۔ تاہم دستیاب رپورٹ میں تمام متاثرہ ایئرلائنز، مخصوص پروازوں اور پابندی کے نفاذ سے متعلق مکمل انتظامی تفصیلات شامل نہیں تھیں۔ اس لیے کسی مخصوص کمپنی کے تمام روٹس یا مسافروں پر یکساں اثر فرض نہیں کیا جا سکتا۔
بین الاقوامی فضائی کمپنیوں کے لیے کسی ملک کی فضائی حدود بند ہونے کی صورت میں متبادل راستے عموماً پڑوسی ممالک کی فضائی حدود سے ترتیب دیے جاتے ہیں، جس سے بعض پروازوں کا فاصلہ بڑھ سکتا ہے۔ تازہ اقدام کا طویل مدتی تجارتی یا سفارتی اثر اس بات پر منحصر ہوگا کہ پابندی کتنی مدت برقرار رہتی ہے اور تائیوانی کیریئرز اپنے ایشیا، یورپ اور مشرق وسطیٰ کے نیٹ ورک کو کس طرح ایڈجسٹ کرتے ہیں۔ اس مرحلے پر تصدیق شدہ اطلاع فضائی حدود تک رسائی روکنے اور پروازوں کے راستوں میں تبدیلی تک محدود ہے۔

