پاکستان نے ایشین گیمز 2026 کے مردوں کے کرکٹ سیمی فائنل میں بنگلہ دیش کو چھ وکٹوں سے شکست دے کر گولڈ میڈل میچ کے لیے کوالیفائی کر لیا۔ نشن، جاپان کے کوروگی اسپورٹس پارک میں بارش کے باعث میچ 13 اوورز فی اننگز تک محدود رہا، جہاں پاکستان نے 112 رنز کا ہدف 11.3 اوورز میں چار وکٹوں کے نقصان پر حاصل کر لیا۔

ڈان اور Geo Super کے مطابق پاکستان کی کامیابی میں عبدالصمد کی جارحانہ بیٹنگ فیصلہ کن ثابت ہوئی۔ انہوں نے 15 گیندوں پر ناقابلِ شکست 30 رنز بنائے، جن میں پانچ چوکے اور ایک چھکا شامل تھا۔ حسن نواز نے 22 گیندوں پر ناقابلِ شکست 27 رنز بنائے اور دونوں نے پانچویں وکٹ کے لیے 59 رنز کی شراکت قائم کی۔ پاکستان ایک مرحلے پر 53 رنز پر چار وکٹیں گنوا چکا تھا، مگر اس شراکت نے میچ کا رخ بدل دیا۔

عبدالصمد نے خاص طور پر دسویں اوور میں مستفیض الرحمن کے خلاف تیز بیٹنگ کی۔ پاکستان کو آخری چار اوورز میں 36 رنز درکار تھے، مگر اس اوور میں 23 رنز بننے سے ہدف تیزی سے کم ہو گیا۔ صمد نے اوور میں ایک چھکا اور مسلسل چار چوکے لگائے، جس کے بعد پاکستان نے نو گیندیں باقی رہتے ہدف مکمل کر لیا۔

اس سے پہلے بنگلہ دیش نے پہلے بیٹنگ کرتے ہوئے 13 اوورز میں سات وکٹوں کے نقصان پر 111 رنز بنائے۔ توحید ہردوئے نے 25 گیندوں پر 42 رنز کی اننگز کھیلی، جبکہ سیف حسن نے 19 رنز بنائے۔ بنگلہ دیش ایک وقت میں 45 رنز پر چار وکٹیں کھو چکا تھا، جس کے بعد ہردوئے نے مصدق حسین کے ساتھ 53 رنز کی شراکت کر کے اننگز کو سنبھالا۔

پاکستان کی جانب سے بائیں ہاتھ کے اسپنر سفیان مقیم نے 26 رنز کے عوض تین وکٹیں حاصل کیں۔ انہوں نے ایک ہی اوور میں ہردوئے اور مصدق کو آؤٹ کر کے بنگلہ دیش کی رفتار محدود کی۔ عرفات منہاس نے دو وکٹیں لیں، جبکہ صائم ایوب نے اپنے دو اوورز میں صرف تین رنز دے کر ایک وکٹ حاصل کی۔

پاکستان کی اننگز کا آغاز اچھا نہیں تھا۔ کپتان صاحبزادہ فرحان پہلے ہی اوور میں ایک رن بنا کر آؤٹ ہو گئے، جبکہ معاذ صداقت نے سات گیندوں پر 15، صائم ایوب نے 12 گیندوں پر 21 اور عثمان خان نے 14 رنز بنائے۔ چار وکٹیں گرنے کے بعد عبدالصمد اور حسن نواز نے دباؤ میں ذمہ دارانہ اور جارحانہ امتزاج کے ساتھ ہدف حاصل کیا۔

پاکستان اب 3 اکتوبر کو گولڈ میڈل میچ کھیلے گا، جہاں اس کا مقابلہ دوسرے سیمی فائنل کے فاتح سے ہوگا۔ بنگلہ دیش برانز میڈل میچ میں شرکت کرے گا۔ سیمی فائنل سے قبل دونوں ٹیموں کے کوارٹر فائنل بارش کے باعث بغیر کسی گیند کے منسوخ ہو گئے تھے، اس لیے یہ ناک آؤٹ مرحلے میں دونوں کے لیے پہلا مکمل مقابلہ تھا۔