اسلام آباد: پاکستان نے مشرقِ وسطیٰ میں بڑھتی کشیدگی کے دوران ایران، سعودی عرب اور ترکی کے درمیان براہ راست سلامتی رابطے کے لیے تہران میں ہونے والی ایک غیر معمولی ملاقات کے انعقاد میں اہم کردار ادا کیا ہے۔ ایک پاکستانی خبررساں ادارے کی سفارتی ذرائع پر مبنی رپورٹ کے مطابق ملاقات میں پاکستان کے چیف آف ڈیفنس فورسز و آرمی چیف فیلڈ مارشل عاصم منیر، سعودی وزیر دفاع شہزادہ خالد بن سلمان اور ترکی کے انٹیلی جنس سربراہ ابراہیم کالن نے ایرانی قیادت سے بات چیت کی۔
یہ رابطہ ایسے وقت ہوا جب پاکستان، سعودی عرب اور ترکی مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے کے تحت باہمی سکیورٹی تعاون بڑھا رہے ہیں اور خطے میں امریکا اور ایران کے درمیان دوبارہ فوجی تصادم کے خدشات موجود ہیں۔ رپورٹ کے مطابق پاکستانی سفارتی کوشش کا مقصد چاروں ملکوں کو تمام علاقائی تنازعات پر ایک مشترکہ مؤقف اپنانے پر مجبور کرنا نہیں بلکہ حساس سکیورٹی معاملات پر براہ راست بات چیت کا مستقل راستہ کھولنا تھا۔
سفارتی ذرائع نے مذاکرات کا ماحول مثبت قرار دیا اور کہا کہ اسی فارمیٹ میں رابطہ جاری رکھنے کی مفاہمت ہوئی ہے۔ تاہم گفتگو کی مکمل تفصیلات سرکاری طور پر جاری نہیں کی گئیں، اس لیے ذرائع سے منسوب کسی مخصوص مفاہمت کو باقاعدہ معاہدہ تصور نہیں کیا جاسکتا۔ سعودی عرب کے لیے یمن اور حوثی حملوں سے پیدا ہونے والے خطرات اہم ہیں، جبکہ ایران طویل عرصے سے ایسی علاقائی سلامتی ساخت کی حمایت کرتا آیا ہے جو بیرونی طاقتوں پر کم انحصار کرے۔ ترکی کے اپنے علاقائی مفادات اور سکیورٹی ترجیحات بھی اس مکالمے کا حصہ ہیں۔
پاکستان کے لیے یہ سفارتی کردار اس کے ریاض، انقرہ اور تہران کے ساتھ الگ الگ تعلقات کی وجہ سے اہم ہے۔ اسلام آباد سعودی عرب اور ترکی کے ساتھ قریبی دفاعی روابط رکھتا ہے جبکہ ایران کے ساتھ مشترکہ سرحد اور مستقل سفارتی رابطہ بھی برقرار ہے۔ ذرائع کے مطابق ابتدائی بات چیت کے بعد اصل امتحان کسی بھی مفاہمت کے عملی نفاذ کا ہوگا۔ موجودہ مرحلے میں اس رابطے کو خطے میں کشیدگی کم کرنے اور براہ راست مواصلاتی چینل قائم رکھنے کی کوشش کے طور پر دیکھا جارہا ہے، نہ کہ کسی نئے رسمی اتحاد یا جامع امن معاہدے کے طور پر۔

