اسلام آباد: پاکستان نے افغانستان سے ملحق سرحدی خطے میں دہشت گرد تنظیموں کے مبینہ ٹھکانوں اور محفوظ پناہ گاہوں کے خلاف فضائی کارروائی کی ہے۔ وزارت اطلاعات و نشریات کے بیان کے مطابق یہ کارروائی خیبرپختونخوا میں حالیہ دہشت گرد واقعات کے بعد کی گئی اور اس میں سرحدی علاقے میں تین اہداف کو نشانہ بنایا گیا۔

وزارت کے مطابق کارروائی میں ایک خودکش بمباروں کے تربیتی مرکز سمیت تین مقامات تباہ کیے گئے اور 28 دہشت گردوں کے ساتھ متعدد ممکنہ خودکش بمبار مارے گئے۔ بیان میں یہ بھی کہا گیا کہ ان مراکز میں موجود اسلحہ اور گولہ بارود تباہ ہوا۔ یہ ہلاکتوں اور اہداف سے متعلق سرکاری دعوے ہیں؛ دستیاب آزاد ذرائع سے ان اعداد و شمار کی مکمل آزادانہ تصدیق سامنے نہیں آئی، اس لیے انہیں اسی نسبت کے ساتھ رپورٹ کیا جا رہا ہے۔

حکومتی بیان کے مطابق اس سے قبل 20 ستمبر کو کوہاٹ اور ہنگو اضلاع میں انٹیلی جنس کی بنیاد پر زمینی کارروائی کی گئی تھی۔ وزارت نے کہا کہ اس کارروائی میں نو دہشت گرد مارے گئے اور کئی زخمی ہوئے، جس کے بعد ان تنظیموں کے سرحد پار مبینہ ٹھکانوں کے خلاف محدود اور ہدفی فضائی کارروائی کی گئی۔

وزارت اطلاعات نے کہا کہ کارروائی معتبر انٹیلی جنس کی بنیاد پر کی گئی اور شہری نقصان سے بچنے کے لیے احتیاطی اقدامات کیے گئے۔ حکومت کا مؤقف ہے کہ پاکستان کو افغانستان میں موجود دہشت گرد نیٹ ورکس سے سکیورٹی خطرات درپیش ہیں اور اپنی شہری آبادی کے تحفظ کو اولین ترجیح دی جائے گی۔

دوسری جانب افغان طالبان حکومت کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے کارروائی کو جارحیت قرار دیتے ہوئے کہا کہ افغان جانب مناسب جواب دے گا۔ دی نیوز نے رائٹرز کے حوالے سے ایک پاکستانی سکیورٹی اہلکار کا بیان بھی رپورٹ کیا جس کے مطابق کارروائیاں پکتیکا اور کنڑ کے علاقوں میں ہوئیں۔ پاکستانی وزارت کے عوامی بیان میں اہداف کی جغرافیائی تفصیل اس سطح تک بیان نہیں کی گئی تھی۔

یہ پیش رفت پاکستان اور افغانستان کے درمیان سرحد پار دہشت گردی کے مسئلے پر پہلے سے موجود کشیدگی کے ماحول میں سامنے آئی ہے۔ اسلام آباد مسلسل کابل سے مطالبہ کرتا رہا ہے کہ افغان سرزمین پاکستان کے خلاف استعمال نہ ہونے دی جائے، جبکہ افغان طالبان حکومت ماضی میں ایسے الزامات کی نوعیت اور دائرے سے اختلاف کرتی رہی ہے۔ موجودہ واقعے میں بنیادی طور پر تصدیق شدہ حقیقت پاکستانی کارروائی اور دونوں جانب کے سرکاری ردعمل کا سامنے آنا ہے؛ ہلاکتوں، نقصانات اور اہداف کی مکمل نوعیت سے متعلق تفصیلات متعلقہ فریقوں کے بیانات پر مبنی ہیں۔