اسلام آباد/بینکاک: پاکستان کو 2027 کے لیے عالمی بینک گروپ اور بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کے بورڈز آف گورنرز کی چیئرمین شپ سنبھالنے والا ملک قرار دیا گیا ہے۔ وزارتِ اقتصادی امور کے بیان کے مطابق وفاقی وزیر برائے اقتصادی امور احد خان چیمہ، جو عالمی بینک میں پاکستان کے گورنر بھی ہیں، کو بینکاک میں 2026 کے عالمی بینک-آئی ایم ایف سالانہ اجلاس کے پلینری سیشن کے دوران آئندہ چیئرمین کے طور پر باضابطہ طور پر متعارف کرایا گیا۔

وزارت کے مطابق پاکستان 1953 کے بعد پہلی مرتبہ اس چیئرمین شپ پر واپس آئے گا۔ یہ عہدہ عالمی بینک گروپ اور آئی ایم ایف کے رکن ممالک کے گورنرز کے سالانہ اجلاسوں اور متعلقہ ادارہ جاتی رابطوں میں ایک نمایاں نمائندہ ذمہ داری رکھتا ہے۔ وزارت نے اسے پاکستان کے لیے عالمی اقتصادی اور ترقیاتی مباحث میں کردار ادا کرنے اور رکن ممالک کے درمیان تعمیری مکالمے کو سہولت دینے کا موقع قرار دیا ہے۔

2026 کے سالانہ اجلاس 12 سے 18 اکتوبر تک بینکاک میں منعقد ہو رہے ہیں۔ رپورٹ کے مطابق ان اجلاسوں میں 191 ممالک سے 15 ہزار سے زیادہ شرکا، جن میں مرکزی بینکوں کے گورنرز، اقتصادی پالیسی ساز اور کاروباری نمائندے شامل ہیں، عالمی معیشت اور ترقیاتی مالیات سے متعلق موضوعات پر گفتگو کر رہے ہیں۔

پلینری سیشن کے بعد احد چیمہ کو عالمی بینک گروپ کے کارپوریٹ سیکریٹریٹ نے چیئرمین شپ کی ذمہ داریوں پر بریفنگ دی۔ انہوں نے عالمی بینک گروپ کی نائب صدر اور کارپوریٹ سیکریٹری ارادھنا کمار کپور سے بھی ملاقات کی، جس میں پاکستان کی آئندہ مدت کے دوران ادارہ جاتی معاونت اور رابطہ کاری پر تبادلہ خیال کیا گیا۔

احد چیمہ نے پیراگوئے کے مرکزی بینک کے گورنر اور موجودہ بورڈز آف گورنرز کے چیئرمین کارلوس کاروالو اسپالڈنگ سے بھی ملاقات کی۔ وزارتِ اقتصادی امور کے مطابق پاکستان اپنی مدت کے دوران موثر ترقیاتی مالیات اور رکن ممالک کے درمیان تعاون کو فروغ دینے پر توجہ دے گا۔

چیئرمین شپ کا اعلان پاکستان کے آئی ایم ایف یا عالمی بینک کے قرض پروگراموں کی شرائط یا فیصلوں میں یکطرفہ اختیار نہیں دیتا؛ دونوں اداروں کے فیصلے اپنے باقاعدہ گورننس ڈھانچوں اور رکن ممالک کے قواعد کے تحت ہوتے ہیں۔ تاہم یہ ذمہ داری پاکستان کو 2027 کے اعلیٰ سطحی عالمی مالیاتی مکالمے میں نمایاں نمائندگی فراہم کرے گی۔