کراچی: اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے زرمبادلہ ذخائر میں 9 اکتوبر کو ختم ہونے والے ہفتے کے دوران 1 کروڑ 60 لاکھ ڈالر کا اضافہ ہوا اور مرکزی بینک کے پاس موجود ذخائر 21.469 ارب ڈالر تک پہنچ گئے۔ ڈان نے مرکزی بینک کے جاری کردہ اعداد و شمار کے حوالے سے بتایا کہ اسی مدت میں ملک کے مجموعی زرمبادلہ ذخائر 26.863 ارب ڈالر رہے۔
مجموعی ذخائر میں کمرشل بینکوں کے پاس موجود 5.393 ارب ڈالر بھی شامل ہیں۔ اس طرح سرکاری اور کمرشل بینکوں کے ذخائر کو ملا کر پاکستان کا مجموعی زرمبادلہ بفر 26 ارب ڈالر سے اوپر برقرار رہا۔ ہفتہ وار تبدیلی محدود تھی، تاہم مرکزی بینک کے ذخائر میں اضافہ ایسے وقت رپورٹ ہوا ہے جب درآمدات، بیرونی ادائیگیوں اور تجارتی توازن کی صورتحال پر مارکیٹ کی توجہ برقرار ہے۔
ڈان کے مطابق اسٹیٹ بینک کے ذخائر میں حالیہ عرصے کے دوران نمایاں اضافہ یورو بانڈز کی فروخت سے حاصل ہونے والے 3 ارب ڈالر کے سرمائے سمیت مختلف بیرونی رقوم کی آمد کے بعد برقرار رہا ہے۔ دوسری طرف تجارتی خسارے میں اضافے کا دباؤ بھی موجود ہے، جس کے باعث زرمبادلہ ذخائر کی سطح ملکی بیرونی ادائیگی کی صلاحیت کا اہم اشاریہ بنی ہوئی ہے۔
زرمبادلہ ذخائر میں تبدیلی کئی عوامل سے متاثر ہوتی ہے، جن میں قرضوں اور دیگر بیرونی واجبات کی ادائیگیاں، کثیرالجہتی و دوطرفہ رقوم کی وصولی، بانڈ اجرا، ترسیلات اور برآمدی و درآمدی ادائیگیاں شامل ہیں۔ موجودہ ہفتہ وار اعداد و شمار صرف رپورٹ شدہ مدت کی خالص تبدیلی ظاہر کرتے ہیں اور انہیں مستقبل کی شرح مبادلہ یا ذخائر کی سمت کی ضمانت نہیں سمجھا جا سکتا۔
مرکزی بینک کے ذخائر کا 21.469 ارب ڈالر تک پہنچنا پالیسی سازوں کے لیے بیرونی مالیاتی استحکام کے حوالے سے اہم ہے، کیونکہ مناسب ذخائر درآمدی ادائیگیوں اور بیرونی قرضوں کی ادائیگی کے لیے گنجائش فراہم کرتے ہیں۔ تاہم تجارتی خسارہ اور عالمی توانائی قیمتیں ذخائر پر آئندہ دباؤ کے اہم عوامل رہ سکتے ہیں۔
اسٹیٹ بینک ہفتہ وار بنیاد پر زرمبادلہ ذخائر کے اعداد و شمار جاری کرتا ہے۔ 9 اکتوبر کو ختم ہونے والے ہفتے کے لیے جاری کردہ اعداد کے مطابق مرکزی بینک کے ذخائر میں معمولی اضافہ جبکہ مجموعی قومی ذخائر 26.863 ارب ڈالر ریکارڈ ہوئے۔
