پاکستان اور چین نے چین۔پاکستان اقتصادی راہداری کے دوسرے مرحلے میں زرعی جدید کاری، پیداوار میں اضافے اور زرعی مصنوعات کی ویلیو ایڈیشن کو تعاون کے اہم شعبوں میں شامل کرنے پر زور دیا ہے۔ دونوں ممالک کے حکام کے درمیان ہونے والی حالیہ ملاقات میں جدید بیج، زرعی مشینری، پانی کے مؤثر استعمال، تحقیق، پروسیسنگ اور برآمدی معیار بہتر بنانے کے امکانات پر تبادلہ خیال کیا گیا۔

پاکستانی حکام کا کہنا ہے کہ ملک کی بڑی آبادی اور روزگار کا اہم حصہ زراعت سے وابستہ ہے، لیکن کم پیداواری صلاحیت، بعد از برداشت نقصانات، محدود کولڈ چین اور ویلیو ایڈیشن کی کمی برآمدی امکانات کو محدود کرتی ہے۔ چین کے ساتھ تکنیکی اور کاروباری تعاون کے ذریعے ان رکاوٹوں کو کم کرنے اور زیادہ قدر والی زرعی مصنوعات کی پیداوار بڑھانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔

سی پیک کے ابتدائی مرحلے میں توانائی اور بنیادی ڈھانچے کے بڑے منصوبوں پر زیادہ توجہ رہی، جبکہ دوسرے مرحلے میں صنعت، زراعت، ٹیکنالوجی اور کاروباری تعاون کو زیادہ اہمیت دی جا رہی ہے۔ زرعی شعبے میں ممکنہ تعاون میں اعلیٰ معیار کے بیج، میکانائزیشن، آبپاشی کی جدید تکنیک، فصلوں کی پروسیسنگ، ذخیرہ اندوزی اور چینی منڈی تک پاکستانی مصنوعات کی رسائی شامل ہو سکتی ہے۔

دونوں ممالک نے زرعی تحقیقاتی اداروں اور نجی کمپنیوں کے درمیان روابط بڑھانے کی ضرورت پر بھی زور دیا۔ پاکستان کے لیے اہم چیلنج یہ ہوگا کہ ٹیکنالوجی اور سرمایہ کاری کو مقامی کسانوں، چھوٹے کاروباروں اور برآمدی ویلیو چین تک منتقل کیا جائے، تاکہ تعاون صرف بڑے منصوبوں تک محدود نہ رہے۔ معیار، قرنطینہ، فوڈ سیفٹی اور مارکیٹ رسائی کے ضوابط بھی زرعی برآمدات بڑھانے میں بنیادی کردار ادا کریں گے۔

موجودہ بات چیت تعاون کی سمت اور ترجیحات کی نشاندہی کرتی ہے، لیکن تمام زیر بحث شعبوں کو حتمی سرمایہ کاری یا مکمل شدہ منصوبوں کے طور پر نہیں دیکھا جا سکتا۔ حقیقی اثر کا انحصار مخصوص منصوبوں، سرمایہ کاری کے حجم، ٹیکنالوجی منتقلی، کسانوں کی شرکت اور پاکستانی زرعی مصنوعات کے لیے چینی و دیگر منڈیوں میں عملی رسائی پر ہوگا۔ سی پیک کے دوسرے مرحلے میں زراعت کو نمایاں مقام ملنے سے پاکستان اپنی زرعی معیشت کو خام پیداوار سے زیادہ ویلیو ایڈڈ اور برآمدی ماڈل کی طرف لے جانے کی کوشش کر رہا ہے۔