اسلام آباد: پاکستان اور چین نے دوطرفہ معلوماتی اور ابلاغی تعاون کو منظم شکل دینے کے لیے پاکستان چائنا انفارمیشن کوریڈور (سی پی آئی سی) کا آغاز کر دیا ہے۔ اسلام آباد میں منعقدہ تقریب میں وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات عطاء اللہ تارڑ اور پاکستان میں چین کے سفیر جیانگ زائی ڈونگ نے شرکت کی۔ اس اقدام کا مقصد دونوں ممالک کے میڈیا اداروں، کاروباری حلقوں، تھنک ٹینکس، ثقافتی اداروں اور سیاحت سے وابستہ تنظیموں کے درمیان رابطہ بڑھانا بتایا گیا ہے۔

تقریب سے خطاب میں وزیر اطلاعات نے کہا کہ پاکستان اور چین کے تعلقات صرف حکومتوں تک محدود نہیں بلکہ عوامی اور ادارہ جاتی سطح پر بھی گہرے ہیں۔ ان کے مطابق نئے کوریڈور کے ذریعے دونوں ممالک کے متعلق معلومات کے تبادلے، مشترکہ ابلاغی سرگرمیوں اور باہمی تعاون کے لیے ایک منظم پلیٹ فارم فراہم کیا جائے گا۔ حکومت نے اسے چین پاکستان اقتصادی راہداری اور وسیع تر دوطرفہ شراکت داری کے بارے میں معلوماتی رابطے بہتر بنانے کی کوشش کے طور پر پیش کیا ہے۔

منصوبے میں غلط یا گمراہ کن معلومات کا مقابلہ بھی ایک اہم جزو بتایا گیا ہے۔ پاکستانی حکام کے مطابق دونوں ممالک کے بارے میں گردش کرنے والے دعووں کی جانچ، حقائق پر مبنی مواد کی تیاری اور متعلقہ اداروں کے درمیان معلومات کے بروقت تبادلے کو فروغ دیا جائے گا۔ اس نوعیت کے تعاون میں بنیادی اہمیت اس بات کی ہوگی کہ حقائق کی تصدیق شفاف ذرائع اور واضح ادارہ جاتی طریقہ کار کے ذریعے کی جائے۔

چینی سفیر نے پاکستان اور چین کے تعلقات کو دیرینہ شراکت داری قرار دیتے ہوئے عوامی سطح پر رابطوں اور باہمی فہم بڑھانے کی ضرورت پر زور دیا۔ دستیاب رپورٹنگ کے مطابق سی پی آئی سی صرف روایتی میڈیا تک محدود نہیں ہوگا بلکہ کاروبار، علمی و تحقیقی اداروں، ثقافت اور سیاحت سے متعلق شعبوں کو بھی جوڑنے کی کوشش کرے گا۔

پاکستان اور چین کے درمیان سی پیک کے تحت انفراسٹرکچر، توانائی اور معاشی تعاون پہلے ہی دوطرفہ تعلقات کا بڑا حصہ ہے۔ نئے معلوماتی کوریڈور کا اعلان اس تعاون میں ابلاغ اور عوامی رابطے کی ایک اضافی جہت شامل کرتا ہے۔ تاہم اس پلیٹ فارم کی عملی کامیابی کا اندازہ اس کے آئندہ پروگراموں، شریک اداروں، معلوماتی شفافیت اور قابل پیمائش نتائج سے ہوگا۔

فی الحال اعلان ایک ادارہ جاتی پلیٹ فارم کے آغاز سے متعلق ہے۔ کسی مخصوص مالی حجم، قانونی اختیار یا لازمی ضابطہ جاتی نظام کا اعلان اس خبر کا حصہ نہیں، اس لیے اسے بنیادی طور پر پاکستان اور چین کے درمیان معلومات، میڈیا اور عوامی رابطوں کے لیے نئے تعاون کے ڈھانچے کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔