اسلام آباد: پاکستان میں موسمیاتی تبدیلی کے بڑھتے معاشی اثرات کے پیش نظر موافقت اور کم کاربن ترقی کے منصوبوں کے لیے مالی وسائل بڑھانے کی ضرورت پر توجہ مرکوز ہے۔ سرکاری بجٹ اکیلا درکار سرمایہ کاری پوری نہیں کرسکتا، اس لیے بین الاقوامی موسمیاتی فنڈز، ترقیاتی اداروں اور نجی سرمایہ کاروں کو قابل عمل منصوبوں کی جانب راغب کرنا پالیسی کا اہم حصہ بنتا جا رہا ہے۔

پاکستان کو سیلاب، شدید گرمی، خشک سالی، پانی کے دباؤ اور غیر معمولی بارشوں جیسے خطرات کا سامنا ہے۔ ان اثرات سے سڑکوں، پلوں، آبپاشی، شہری نکاسی، زراعت اور بجلی کے نظام کو نقصان پہنچ سکتا ہے۔ موسمیاتی موافقت میں پہلے سے سرمایہ کاری بعض صورتوں میں آفات کے بعد تعمیر نو کی لاگت کم کرسکتی ہے، لیکن ایسے منصوبوں سے فوری تجارتی آمدن ہمیشہ واضح نہیں ہوتی، جس کی وجہ سے نجی سرمایہ راغب کرنا مشکل ہوسکتا ہے۔

اسی لیے موسمیاتی مالیات کے فریم ورک میں منصوبوں کی واضح درجہ بندی، شفاف ڈیٹا، قابل پیمائش نتائج اور خطرات کی تقسیم اہم ہوتی ہے۔ حکومت یا ترقیاتی ادارے ضمانت، رعایتی فنانسنگ یا blended finance کے ذریعے ایسے منصوبوں کا مالی خطرہ کم کرسکتے ہیں جہاں نجی سرمایہ کار اکیلے سرمایہ لگانے سے گریز کریں۔ صاف توانائی اور توانائی بچت کے منصوبے نسبتاً زیادہ تجارتی واپسی فراہم کرسکتے ہیں، جبکہ سیلابی تحفظ اور ماحولیاتی بحالی میں زیادہ سرکاری کردار درکار ہوسکتا ہے۔

بین الاقوامی موسمیاتی فنڈز تک رسائی کے لیے منصوبوں کی تیاری بھی اہم رکاوٹ ہے۔ صرف بڑے مالی وعدے کافی نہیں؛ فزیبلٹی، ماحولیاتی و سماجی تحفظ، خریداری کے قواعد اور نتائج کی نگرانی کے قابل منصوبے درکار ہوتے ہیں۔ وفاقی اور صوبائی اداروں کے درمیان بہتر رابطہ اس لیے ضروری ہے کہ موسمیاتی خطرات اور ترقیاتی منصوبوں کی بڑی ذمہ داری صوبائی اور مقامی سطح پر بھی ہوتی ہے۔

پاکستان کے لیے موسمیاتی مالیات کا مقصد قرض بڑھانا نہیں بلکہ ایسے وسائل کا مناسب امتزاج تلاش کرنا ہے جس میں گرانٹس، رعایتی قرض، نجی سرمایہ اور ملکی بجٹ شامل ہوسکیں۔ آئندہ کامیابی کا پیمانہ صرف اعلان شدہ رقم نہیں ہوگا بلکہ یہ ہوگا کہ کتنے منصوبے عملی طور پر مکمل ہوتے ہیں، کتنی آبادی کا خطرہ کم ہوتا ہے اور توانائی، پانی اور شہری نظام موسمی جھٹکوں کے مقابلے میں کتنے مضبوط بنتے ہیں۔