اسلام آباد: پاکستان میں خوراک اور توانائی کی قیمتوں کو الگ کرکے ناپی جانے والی بنیادی مہنگائی اکتوبر 2026 میں کم ہو کر 7.5 فیصد رہ گئی ہے۔ پاکستان بیورو آف شماریات کے جاری کردہ اعدادوشمار کے مطابق یہ مسلسل دوسرا مہینہ ہے جس میں بنیادی مہنگائی کی رفتار میں کمی آئی، جبکہ اگست میں یہ شرح 8.8 فیصد تک پہنچی تھی۔

اعدادوشمار کے مطابق شہری علاقوں میں بنیادی مہنگائی 7.8 فیصد اور دیہی علاقوں میں 7.1 فیصد رہی۔ اسی عرصے میں مجموعی صارف قیمت مہنگائی 9.6 فیصد ریکارڈ ہوئی، جو وزارت خزانہ کی اکتوبر کے لیے پیش گوئی کے قریب ہے۔ شہری علاقوں کی مجموعی مہنگائی 9.5 فیصد اور دیہی علاقوں کی 9.8 فیصد بتائی گئی۔

یہ اعدادوشمار اس لیے بھی اہم ہیں کہ اسٹیٹ بینک آف پاکستان نے گزشتہ ہفتے پالیسی شرح سود بڑھا کر 12 فیصد کرتے ہوئے خوراک اور توانائی کی بلند قیمتوں سے بنیادی مہنگائی پر ممکنہ اثرات کو ایک خطرہ قرار دیا تھا۔ مرکزی بینک کا موقف تھا کہ مشرق وسطیٰ کی کشیدگی اور مقامی گندم کی رسد سے متعلق مسائل مہنگائی کے منظرنامے کو متاثر کر سکتے ہیں۔

پی بی ایس کے مطابق شہری علاقوں میں غذائی مہنگائی 8.1 فیصد سے کم ہو کر 7.8 فیصد ہوئی، جبکہ دیہی علاقوں میں یہ 7.1 فیصد رہی۔ توانائی کی قیمتوں کی رفتار میں بھی کچھ کمی ریکارڈ کی گئی، تاہم رہائش، پانی، بجلی، گیس، ایندھن اور نقل و حمل کے اخراجات بدستور گھرانوں کے بجٹ پر نمایاں دباؤ ڈال رہے ہیں۔

اکتوبر میں پیٹرول کی قیمت ایک سال پہلے کے مقابلے میں 42 فیصد زیادہ بتائی گئی، جبکہ بجلی کے نرخ سالانہ بنیاد پر 23 فیصد بڑھے۔ نقل و حمل کی خدمات کی قیمتوں میں بھی 27 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔ غذائی اشیا میں پیاز اور گندم کی قیمتیں نمایاں طور پر بلند رہیں، جبکہ ٹماٹر، آلو، چینی، انڈوں اور بعض دالوں کی قیمتیں سالانہ بنیاد پر کم ہوئیں۔

بین الاقوامی مالیاتی فنڈ نے رواں مالی سال کے لیے پاکستان کی مہنگائی کی پیش گوئی 9.9 فیصد کی ہے، جو سرکاری ہدف سے زیادہ ہے۔ اکتوبر میں بنیادی مہنگائی کی کمی ایک مثبت اشارہ ضرور ہے، لیکن شرح سود، توانائی کی لاگت، گندم کی رسد اور عالمی تیل کی قیمتیں آنے والے مہینوں میں مہنگائی کے رجحان کے لیے اہم عوامل رہیں گے۔