پشاور/ڈیرہ اسماعیل خان: پاکستان کسٹمز کے کلکٹریٹ آف کسٹمز انفورسمنٹ پشاور نے ڈیرہ اسماعیل خان کے قریب ایک گاڑی سے بڑی مقدار میں غیر قانونی اسلحہ اور گولہ بارود برآمد کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔ کلکٹریٹ کی جانب سے جاری معلومات کے مطابق کارروائی خفیہ اطلاع کی بنیاد پر گلوٹی۔ڈی آئی خان روٹ پر کی گئی، جہاں جوائنٹ چیک پوسٹ یارک کی ایک خصوصی ٹیم کو مشتبہ گاڑی روکنے کے لیے تعینات کیا گیا تھا۔
کسٹمز کے مطابق اہلکاروں نے گاڑی کو رکنے کا اشارہ کیا تو ڈرائیور نے رفتار بڑھا کر نکلنے کی کوشش کی۔ تعاقب کے بعد گاڑی کو تقریباً رات ایک بجے سدرا شریف کے مقام پر روک لیا گیا، تاہم ڈرائیور گاڑی چھوڑ کر فرار ہوگیا۔ حکام نے بتایا کہ گاڑی کی تلاشی کے دوران اسالٹ رائفلز، مختلف اقسام کے پستول، ہائی کیپیسٹی میگزین اور مختلف بور کے ہزاروں راؤنڈ برآمد ہوئے۔ برآمد شدہ سامان میں ایم فور طرز کی رائفلیں، جی تھری رائفلیں، اے کے 47 میگزین، ہینڈ گن ایمونیشن اور مختلف ساخت کے پستول شامل بتائے گئے ہیں۔
کلکٹریٹ آف کسٹمز انفورسمنٹ پشاور کے بیان میں کہا گیا ہے کہ برآمد شدہ اسلحہ کی ترسیل کو روکنا دہشت گرد یا جرائم پیشہ نیٹ ورکس تک ہتھیار پہنچنے کے امکان کے خلاف اہم کارروائی ہے۔ تاہم اس مرحلے پر یہ کسٹمز حکام کا مؤقف ہے؛ دستیاب معلومات میں کسی مخصوص تنظیم یا فرد پر حتمی ذمہ داری عائد نہیں کی گئی اور نہ ہی یہ بتایا گیا ہے کہ ضبط شدہ سامان کا حتمی فرانزک یا عدالتی تعین مکمل ہو چکا ہے۔
حکام کے مطابق فرار ڈرائیور کی تلاش اور اسلحہ کی کھیپ کے پیچھے موجود نیٹ ورک کی شناخت کے لیے دیگر قانون نافذ کرنے والے اور انٹیلی جنس اداروں کے ساتھ رابطہ جاری ہے۔ اس لیے معاملے کو گرفتاری، فردِ جرم یا عدالتی سزا کے مرحلے تک پہنچا ہوا نہیں سمجھا جا سکتا۔ موجودہ پیش رفت ضبطی اور جاری تفتیش تک محدود ہے۔
کلکٹر کسٹمز انفورسمنٹ پشاور عائشہ بشیر وانی نے کارروائی کو فیلڈ عملے کی نگرانی اور بروقت ردعمل کا نتیجہ قرار دیا۔ ان کے مطابق حساس روٹس پر اسمگلنگ کی روک تھام کے لیے کسٹمز ٹیمیں معلومات پر مبنی نگرانی اور مشترکہ چیک پوسٹوں کے ذریعے کام کر رہی ہیں۔
ڈیرہ اسماعیل خان اور ملحقہ علاقوں میں سلامتی کے خدشات کے باعث غیر قانونی اسلحہ کی نقل و حرکت کی روک تھام قانون نافذ کرنے والے اداروں کے لیے اہم مسئلہ ہے۔ اس کیس میں آئندہ اہم پیش رفت فرار شخص کی گرفتاری، کھیپ کے ماخذ و منزل کی نشاندہی اور برآمد شدہ ہتھیاروں کے ممکنہ استعمال سے متعلق تفتیش کے نتائج ہوں گے۔
